وندے ماترم ترمیمی قانون پر آل انڈیا ملی کونسل کا سخت اعتراض
مولانا انیس الرحمن قاسمی نے آئینی و مذہبی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 2 اگست (حقیقت ٹائمز)
آل انڈیا ملی کونسل نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے وندے ماترم سے متعلق نئے ضابطوں پر مشتمل ترمیمی بل کی منظوری پر سخت تشویش اور اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے اسے ملک کے آئینی، جمہوری اور سیکولر اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔ کونسل نے حکومتِ ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔مرکزی دفتر آل انڈیا ملی کونسل کی جانب سے جاری پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ وقار کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971 میں ترمیم کے نام پر منظور کیا گیا بل شہریوں کی مذہبی آزادی اور آئینی حقوق پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس پر تنظیم اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔آل انڈیا ملی کونسل کے کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ قانون سازی کے ذریعے کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر لازم کرنا دستورِ ہند کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روایات کو مساوی احترام حاصل ہے، اس لیے کسی ایک نظریے کو قانونی جبر کے ذریعے نافذ کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل اپنے سابقہ مؤقف کا اعادہ کرتی ہے کہ وندے ماترم کو تمام طبقات اور مذہبی برادریوں پر لازمی قرار دینے کی کوشش آئین کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی مختلف مذہبی حساسیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف ابتدائی دو بندوں کو قومی سطح پر قبول کیا تھا، جبکہ باقی حصوں کو ملک کے سیکولر مزاج کے مطابق نہیں سمجھا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ وندے ماترم کے بعض اشعار میں وطن کو ایک دیوی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے۔کونسل کے مطابق مسلمان اپنے وطن سے محبت کو دینی اور شہری ذمہ داری سمجھتے ہیں، لیکن عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرتے ہیں اور کسی بھی مخلوق کو معبود کا درجہ نہیں دے سکتے۔مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی اپنے ایک فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ اگر کسی شخص کا مذہبی عقیدہ اسے کسی مخصوص عمل میں شرکت سے روکتا ہو تو محض عدم شرکت کی بنیاد پر اسے سزا نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق نئے قانون میں اس معاملے کو وقار کے مسئلے سے جوڑ کر مجرمانہ فعل قرار دینا قابلِ اعتراض ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کی رائے میں یہ قانون دستورِ ہند کی دفعہ 19 اور دفعہ 25 میں دی گئی آزادیِ اظہار اور مذہبی آزادی کی ضمانتوں سے متصادم ہے۔ اسی لیے آل انڈیا ملی کونسل حکومتِ ہند سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ اس قانون پر ازسرِنو غور کرتے ہوئے آئینی اور مذہبی آزادیوں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔کونسل نے امید ظاہر کی کہ حکومت تمام طبقات کے جذبات، آئینی تقاضوں اور ملک کی ہمہ مذہبی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کرے گی۔
Post a Comment