Kumaraswamy Targets Sonia Gandhi Over Vande Mataram وندے ماترم کی مخالفت ناقابلِ قبول، کماراسوامی کا کانگریس پر وار

وندے ماترم کی مخالفت پر کماراسوامی برہم، کانگریس سے سوالات

بڈدی معاملے کی رپورٹ منظرِ عام پر لانے پر زور، ہنّور واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ

ہاسن، 17 اگست (حقیقت ٹائمز)

مرکزی وزیر صنعت اور سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے ’وندے ماترم‘ گیت کے معاملے میں کانگریس اور سونیا گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنکم چندر چٹرجی کے تحریر کردہ اس قومی گیت کا ہر شخص کو احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ بھی ’وندے ماترم‘ کے احترام کی حمایت کرچکی ہے، اس کے باوجود کانگریس کی جانب سے اس کی مخالفت مناسب نہیں۔ہولے نرسی پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کماراسوامی نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ کو احترام دینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی کی موجودگی میں کانگریس کے اجلاس میں بھی یہ گیت پیش کیا گیا تھا اور عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی اسے گایا تھا۔ ایسے میں کانگریس کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔جب صحافیوں نے سونیا گاندھی کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کی گائیکی میں مبینہ رکاوٹ کے بارے میں سوال کیا تو کماراسوامی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی سے اس سے زیادہ کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں عوام ہی اس کا جواب دیں گے۔

ہنّور شوٹ آؤٹ پر حکومت سے جواب طلب

ہنّور شوٹ آؤٹ واقعہ پر کماراسوامی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملے میں ایک بیان جاری کیا گیا ہے، لیکن ایک ہی خاندان کے 3 افراد کی موت پر عوام اور متاثرہ خاندانوں میں غم و غصہ فطری ہے۔ حکومت کو ایسے حالات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے مطابق متعلقہ افراد ہرن کے شکار کے لیے گئے تھے اور وزیر اعلیٰ نے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ محکمہ جنگلات کے عملے کی جانب سے ایسی فائرنگ کیوں کی گئی جس کے نتیجے میں جانیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خطرے کو ٹالنے کے لیے غیر مہلک انداز میں فائرنگ کی جاتی تو معاملہ مختلف ہوتا۔

بڈدی معاملے پر جانچ کمیٹی کی رپورٹ جاری کرنے کا مطالبہ

بڈدی پیدل مارچ کے سلسلے میں کانگریس کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہارات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کماراسوامی نے کہا کہ حکومت مزید 10 اشتہارات بھی جاری کرے تو وہ اس سے پریشان نہیں ہوں گے۔ تاہم انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ بیددی معاملے پر ان کی اپنی جماعت کی سچائی جانچ کمیٹی کی رپورٹ ریاست کے عوام کے سامنے رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ کسان اور کسان خواتین گزشتہ تقریباً 500 دن سے اپنی زمین کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی زمین نہیں دیں گے۔ کماراسوامی نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں خوف زدہ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔مرکزی وزیر نے سوال کیا کہ اگر کسان اپنی زمین دینے پر آمادہ نہیں ہیں تو حکومت انہیں دباؤ میں لاکر کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو یہ منصوبہ ضروری لگتا ہے تو اس کے لیے کسی دوسرے مقام پر زمین تلاش کیوں نہیں کی جاتی۔کماراسوامی نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ کانگریس کی سچائی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کو مکمل طور پر ریاست کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خود کاگوڑ تمپا کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں اور انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ میں کیا سفارشات پیش کی گئی تھیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی کی رپورٹ میں ٹاؤن شپ قائم نہ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ کماراسوامی نے وزیر اعلیٰ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی اپنے موقف میں سنجیدہ ہے تو کمیٹی کی سابقہ سفارشات کو شائع کرکے اشتہار کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرے۔

0/Post a Comment/Comments