خلافت ہاؤس: ماضی کی تاریخی میراث اور مستقبل کی سماجی ضرورتوں کا سنگم
مجوزہ نئی عمارت میں اسپتال، تعلیمی ادارے اور تاریخی دستاویزی مرکز کا منصوبہ
از : جاوید جمال الدین
ممبئی۔ آل انڈیا خلافت کمیٹی کے چیئرمین اور روزنامہ ہندوستان کے مدیرِ اعلیٰ سرفراز آرزو نے کہا ہے کہ تاریخی خلافت ہاؤس کی ازسرِنو تعمیر کا مقصد محض ایک خستہ حال عمارت کی جگہ نئی عمارت تعمیر کرنا نہیں، بلکہ تحریکِ خلافت اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے صحت، تعلیم، تحقیق اور خدمتِ خلق کے ایک فعال مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خلافت ہاؤس کے احاطے میں تقریباً 120 کروڑ روپے کی ابتدائی لاگت سے 17 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ مجوزہ منصوبے میں ہارٹ اسپیشلٹی اسپتال، بی ایڈ کالج اور دیگر تعلیمی و فلاحی سہولتیں شامل کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم منصوبے کے مالی، انتظامی، تعمیراتی اور قانونی پہلوؤں کو حتمی شکل دیا جانا ابھی باقی ہے اور متعلقہ منظوریوں کے بعد ہی اس کی مکمل تفصیلات سامنے آسکیں گی۔
تاریخی ورثے کے تحفظ پر زور
خلافت ہاؤس ہندوستان کی قومی تحریک، سیاسی بیداری، ہندو مسلم اتحاد اور آزادی کی جدوجہد سے وابستہ ایک اہم تاریخی مقام ہے۔ تحریکِ خلافت نے بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے مسلمانوں کو ایک وسیع سیاسی پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے ساتھ بھی اس کا گہرا تعلق قائم ہوا۔مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور دیگر رہنماؤں نے تحریکِ خلافت کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ مہاتما گاندھی کی حمایت نے اس تحریک کو اس دور کی وسیع تر قومی سیاست سے جوڑ دیا۔ خلافت ہاؤس اس زمانے میں اجلاسوں، مشاورت، سیاسی ملاقاتوں اور قومی امور پر تبادلۂ خیال کا ایک اہم مرکز رہا۔سرفراز آرزو کا کہنا ہے کہ خلافت ہاؤس کو محض ایک قدیم عمارت سمجھنا اس کی تاریخی اہمیت کو محدود کرنا ہوگا۔ تعمیرِ نو کے دوران اس مقام کی تاریخی شناخت اور ورثے کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔
ہارٹ اسپیشلٹی اسپتال کی تجویز
مجوزہ عمارت میں ہارٹ اسپیشلٹی اسپتال کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اسپتال کے ذریعے امراضِ قلب کی تشخیص، علاج اور دیگر طبی سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسپتال کی حتمی گنجائش، بستروں کی تعداد، مختلف شعبوں اور انتظامی ڈھانچے کا فیصلہ تفصیلی منصوبہ بندی کے بعد کیا جائے گا۔سرفراز آرزو کے مطابق تاریخی خلافت ہاؤس کو طبی خدمات سے جوڑنا قومی خدمت کے اس جذبے کو موجودہ دور میں آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہوگی۔ اگر اسپتال کو فلاحی بنیادوں پر یا عام لوگوں کے لیے کم لاگت میں طبی سہولت فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر ترقی دی جاتی ہے تو ممبئی کے کم آمدنی والے طبقات سمیت وسیع حلقے اس سے مستفید ہوسکتے ہیں۔
بی ایڈ کالج اور تعلیمی سہولتوں کی توسیع
صحت کے ساتھ تعلیم کو بھی مجوزہ منصوبے میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔ خلافت ہاؤس میں بی ایڈ کالج کو جدید سہولتوں کے ساتھ وسعت دینے کی تجویز ہے، تاکہ تدریس کے شعبے میں آنے والے نوجوانوں کو بہتر تربیت فراہم کی جاسکے۔جدید تدریسی طریقوں، ٹیکنالوجی، تربیتی پروگراموں اور عملی تجربات کو شامل کرکے بی ایڈ کالج کو ایک معیاری تعلیمی مرکز بنانے کی گنجائش موجود ہے۔ اس طرح منصوبے کے ذریعے ایک جانب صحت کی خدمت اور دوسری جانب مستقبل کے اساتذہ کی تیاری کا کام انجام دیا جاسکے گا۔
تاریخی و دستاویزی مرکز کے قیام کی تجویز
سرفراز آرزو نے مجوزہ عمارت میں تحریکِ خلافت اور آزادی کی جدوجہد سے متعلق تاریخی و دستاویزی مرکز یا عجائب گھر قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ان کے مطابق خلافت تحریک اور آزادی کی جدوجہد سے متعلق پرانی تصاویر، اخبارات، دستاویزات، خطوط، فائلیں اور دیگر تاریخی مواد کو محفوظ کرنے کے لیے مستقل مرکز قائم کیا جائے تو یہ محققین، طلبہ، صحافیوں اور عام لوگوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، بی اماں، امجدی بانو بیگم اور آزادی کی جدوجہد سے وابستہ دیگر شخصیات سے متعلق منتشر تاریخی مواد کو ایک جگہ جمع کرکے محفوظ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس اقدام سے خلافت ہاؤس کو ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ کے مطالعے کا اہم مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
امجدی بانو بیگم سے منسوب قبر کا معاملہ
خلافت ہاؤس کی تعمیرِ نو کے دوران امجدی بانو بیگم سے منسوب قبر کا معاملہ بھی خصوصی حساسیت کا متقاضی ہے۔ امجدی بانو بیگم، مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ تھیں اور تحریکِ خلافت کے دور میں انہوں نے اپنے شوہر کی سیاسی اور قومی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔خلافت ہاؤس کے احاطے میں موجود ایک قبر کو امجدی بانو بیگم کی قبر قرار دیا جاتا ہے، تاہم سرفراز آرزو کے مطابق اس نسبت کی حتمی تاریخی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں علما اور مفتیانِ کرام سے مشورہ کیا جائے گا اور اگر قبر کے باقیات کی منتقلی ضروری قرار پائی تو انہیں مکمل احترام کے ساتھ قریبی قبرستان منتقل کرکے دوبارہ دفن کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ تعمیرِ نو کے دوران تاریخی اور مذہبی حساسیت کا مکمل خیال رکھا جائے گا اور کسی بھی صورت بے حرمتی کا سوال پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
مالیاتی منصوبہ ابھی زیرِ غور
ذرائع کے مطابق مجوزہ منصوبے کی ابتدائی لاگت تقریباً 120 کروڑ روپے ہے۔ مالی وسائل کی فراہمی کے لیے 80:20 کے تناسب سمیت مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔ بعض اداروں اور تنظیموں کی جانب سے سالانہ بنیادوں پر مالی تعاون کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔تاہم سرفراز آرزو کے مطابق تعمیراتی لاگت، فنڈنگ کے ذرائع، مختلف اداروں کی شراکت، انتظامی اخراجات اور دیگر مالی معاملات پر مزید غور و مشاورت ضروری ہے۔ اسی طرح تعمیراتی نقشے اور متعلقہ قانونی و سرکاری منظوریوں کا مرحلہ بھی مکمل ہونا باقی ہے۔
مدنپورہ میں بھی سماجی خدمت کے منصوبے پر غور
سرفراز آرزو نے بتایا کہ ممبئی کے مدنپورہ علاقے میں حلقۂ احباب کی جانب سے بھی صحت، تعلیم اور سماجی خدمت سے متعلق اسی نوعیت کے منصوبے پر غور کیا جارہا ہے۔ان کے مطابق مختلف علاقوں میں طبی، تعلیمی اور فلاحی سہولتوں کو مربوط مراکز کی شکل دی جائے تو شہریوں کو ان کے علاقوں کے قریب معیاری خدمات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ خلافت ہاؤس کا مجوزہ منصوبہ بھی اسی وسیع تصور کا حصہ ہے، جس کے تحت تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اسے موجودہ اور آئندہ نسلوں کی عملی ضرورتوں سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ماضی کی میراث اور مستقبل کی ضرورت
خلافت ہاؤس کی تعمیرِ نو کا سب سے اہم پہلو یہ ہوگا کہ نئی عمارت کی تعمیر کے ساتھ اس مقام کی تاریخی شناخت بھی پوری طرح محفوظ رہے۔ اگر نئی عمارت میں اسپتال، بی ایڈ کالج، تاریخی دستاویزی مرکز، مطالعاتی سہولتیں اور سماجی خدمات کو مربوط انداز میں جگہ دی جاتی ہے تو یہ منصوبہ ماضی اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط پل ثابت ہوسکتا ہے۔سرفراز آرزو کے مطابق خلافت ہاؤس کی نئی شناخت ایسی ہونی چاہیے جہاں تاریخ صرف محفوظ نہ ہو بلکہ نئی نسل اس تاریخ سے واقف بھی ہو اور قومی خدمت کے جذبے کو عملی زندگی میں آگے بڑھائے۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم، تحقیق اور خدمتِ خلق کو تاریخی ورثے کے ساتھ جوڑ کر خلافت ہاؤس کو ایک فعال قومی و سماجی مرکز بنایا جاسکتا ہے۔ منصوبہ ابھی حتمی مرحلے میں نہیں پہنچا اور اس کے مختلف پہلوؤں پر مزید غور و مشاورت ضروری ہے، تاہم بنیادی مقصد واضح ہے کہ خلافت ہاؤس کی تاریخی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے آئندہ نسلوں کے لیے صحت، تعلیم، تحقیق، سماجی خدمت اور تاریخی شعور کا ایک مؤثر مرکز بنایا جائے۔اگر یہ منصوبہ اپنی مجوزہ شکل میں عملی جامہ پہنتا ہے تو تقریباً ایک صدی پرانے خلافت ہاؤس کو محض ایک تاریخی یادگار کے بجائے تاریخ کے تحفظ، صحت کی خدمت، تعلیمی ترقی اور قومی و سماجی شعور کے فروغ کے ایک جامع مرکز کے طور پر نئی زندگی مل سکتی ہے۔
Post a Comment