ایس آئی آر جانچ میں 1.08 کروڑ ووٹر مختلف زمروں میں شامل، حتمی حذف سے قبل تصدیق ضروری
غلط نشان دہی والے ووٹروں کو 17 اگست تک متعلقہ انتخابی افسر سے رجوع کرنے کی ہدایت
بنگلورو، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک میں جاری خصوصی انتخابی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرستوں کی جانچ کے دوران 1,08,80,774 ووٹروں کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔ یہ تعداد ریاست کے مجموعی 5,54,32,314 ووٹروں کا 19.63 فیصد ہے۔ ان ووٹروں کے نام حتمی طور پر حذف نہیں کیے گئے ہیں، بلکہ انہیں غیر موجود، مستقل طور پر منتقل، فوت شدہ، پہلے سے درج یا دیگر زمروں میں نشان زد کرکے مزید تصدیق کے لیے رکھا گیا ہے۔ریاستی انتخابی حکام کی جانب سے 11 اگست 2026 کو شام 4 بجے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 5,54,32,314 انتخابی فارم چھاپے اور تقسیم کیے جاچکے ہیں، جو 100 فیصد ہے۔ ان میں سے 4,45,51,540 فارم، یعنی 80.37 فیصد کی تدوین مکمل ہوچکی ہے، جبکہ 1,08,80,774 ووٹر ایسے پائے گئے ہیں جن کے فارم مختلف وجوہات کی بنیاد پر نشان زد کیے گئے ہیں۔
ان نشان زد ووٹروں میں 15,52,372 ووٹر غیر موجود یا ناقابلِ سراغ پائے گئے، جو 2.80 فیصد ہیں۔ 65,74,404 ووٹر مستقل طور پر منتقل ہونے کے زمرے میں شامل ہیں، جو 11.80 فیصد بنتے ہیں۔ 16,36,500 ووٹروں کو فوت شدہ قرار دے کر نشان زد کیا گیا ہے، جبکہ 7,00,987 ووٹر پہلے سے کسی نہ کسی جگہ انتخابی فہرست میں درج پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 4,16,511 ووٹر دیگر زمروں میں رکھے گئے ہیں۔انتخابی حکام نے واضح کیا ہے کہ نشان زد کیے گئے ووٹروں کی فہرست متعلقہ سیاسی جماعتوں کو فراہم کردی گئی ہے اور یہ فہرست بوتھ سطح کے افسران کے پاس بھی تصدیق کے لیے دستیاب ہے۔ اگر کسی ووٹر کو غلطی سے نشان زد کیا گیا ہے تو وہ متعلقہ بوتھ سطح کے افسر یا انتخابی رجسٹریشن افسر سے رجوع کرکے اپنے فارم کی حیثیت درست کراسکتا ہے۔ اس کے لیے 17 اگست 2026 تک سہولت دستیاب رہے گی۔حکام نے خاص طور پر واضح کیا ہے کہ 1,08,80,774 ووٹروں کو حتمی طور پر فہرست سے خارج نہیں کیا گیا ہے۔ یہ وہ ووٹر ہیں جن کے بارے میں ایس آئی آر کے دوران مختلف وجوہات کی بنیاد پر نشان دہی ہوئی ہے اور جن کی حیثیت کی مزید جانچ ضروری ہے۔ غلط نشان دہی کی صورت میں متعلقہ ووٹر کو تصحیح کا موقع دیا گیا ہے۔دریں اثنا، بنگلورو کے شہری علاقوں کے لیے نئے ووٹروں کے اندراج کی خاطر 10 لاکھ فارم چھاپ کر متعلقہ انتخابی رجسٹریشن افسران کو فراہم کیے گئے ہیں۔ نئے ووٹر کے اندراج کے لیے فارم نمبر 6 دستیاب ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کے لیے فارم نمبر 6 اے، نام حذف کرنے کے لیے فارم نمبر 7 اور اندراجات میں تصحیح کے لیے فارم نمبر 8 استعمال کیا جاسکتا ہے۔
16 جون 2026 سے 10 اگست 2026 تک نئے اندراج، منتقلی، تصحیح اور حذف سے متعلق مجموعی 12,84,039 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان میں فارم نمبر 6 کی 4,03,711، فارم نمبر 6 اے کی 3,557، فارم نمبر 7 کی 31,373 اور فارم نمبر 8 کی 8,45,398 درخواستیں شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ جو ہندوستانی شہری 1 اکتوبر 2026 کو یا اس سے پہلے 18 سال کی عمر مکمل کرچکے ہوں اور کرناٹک میں معمول کے رہائشی ہوں، وہ نئے ووٹر کے طور پر اپنا اندراج کراسکتے ہیں۔ درخواست کے ساتھ ضروری دستاویزات اور اعلامیہ جمع کرنا ہوگا۔ایس آئی آر کے تحت گھر گھر انتخابی جانچ اور فارموں کی تدوین کا عمل 17 اگست 2026 تک جاری رہے گا۔ انتخابی حکام نے ووٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کریں اور اگر کسی قسم کی غلطی یا غلط نشان دہی ہو تو مقررہ مدت کے اندر متعلقہ افسر سے رجوع کریں، تاکہ کسی اہل ووٹر کا نام غلطی سے انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو۔
Post a Comment