کرناٹک میں وزارتوں کی تقسیم تقریباً مکمل، اقلیتی وزراء کو اہم قلمدان
یو ٹی قادر کو اقلیتی بہبود، حج و اوقاف؛ ضمیر احمد خان کو ہاؤسنگ اور رضوان ارشد کو خوراک و شہری رسد
بنگلورو، 12 اگست (حقیقت ٹائمز)
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں نئی توسیع شدہ ریاستی کابینہ میں محکموں کی تقسیم کا عمل تقریباً مکمل ہوگیا ہے۔ اس تقسیم میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے اہم وزراء یو ٹی قادر، بی زیڈ ضمیر احمد خان اور رضوان ارشد کو اہم قلمدان سونپے گئے ہیں۔ سرکاری طور پر محکموں کی تقسیم کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔ یو ٹی قادر کو اقلیتی بہبود، حج و اوقاف، صحت و خاندانی بہبود کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ بی زیڈ ضمیر احمد خان کو ہاؤسنگ اور رضوان ارشد کو خوراک و شہری رسد اور صارفین کے امور کا قلمدان دیا گیا ہے۔نئی کابینہ میں محکموں کی تقسیم کو لے کر کئی دنوں سے سیاسی حلقوں میں تجسس پایا جارہا تھا۔ حالیہ کابینہ توسیع کے بعد نئے وزراء کو محکموں کی ذمہ داری سونپنے میں تاخیر پر کانگریس حلقوں میں ناراضی کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ 13 اگست سے اسمبلی کا مانسون اجلاس شروع ہونے کے پیش نظر حکومت پر محکموں کی تقسیم جلد مکمل کرنے کا دباؤ تھا۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے مالیات، کابینہ امور، عملہ و انتظامی اصلاحات، خفیہ محکمہ، اطلاعات، قانون و انسانی حقوق، پارلیمانی امور، زرعی مارکیٹنگ، شہری و دیہی منصوبہ بندی، بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور بنگلورو میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت شہری مقامی اداروں سمیت دیگر غیر مختص محکمے اپنے پاس رکھے ہیں۔دیگر وزراء کو مختص اہم محکمے اس طرح ہیں:رام لنگا ریڈی: جنگلات، ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع۔ لکشمن ساودی: امداد باہمی۔ رودرپا مانپا لمانی: شکر اور ٹیکسٹائل۔ کے ایچ منی اپا: سماجی بہبود۔شیوراج تنگڈگی: پسماندہ طبقات کی بہبود، کنڑ و ثقافت۔ٹی رگھومورتی: درج فہرست قبائل کی بہبود۔ڈاکٹر اجے سنگھ: چھوٹی آبپاشی، سائنس و ٹیکنالوجی۔چلوورایاسوامی: بڑی اور درمیانی آبپاشی۔مدھو بنگارپا: پرائمری و سیکنڈری تعلیم۔ بسواراج رای ریڈی: اعلیٰ تعلیم۔شیولنگے گوڑا: آبکاری۔ پٹّورنگا شیٹی: مویشی پروری اور ریشم۔ وجیانند کاشپنور: چھوٹی صنعتیں اور سرکاری ادارے۔سنتوش لاڈ: محنت و روزگار۔کے ایس بسونتپا: مذہبی اوقاف، ماہی گیری، بندرگاہیں اور اندرونِ ملک آبی نقل و حمل۔ایس ایس ملیکارجن: کان کنی و ارضیات، باغبانی۔ نریندر سوامی: زراعت۔ ایچ سی بالاکرشنا: شہری انتظامیہ۔ بی ناگیندر: منصوبہ بندی و شماریات۔ محکموں کی تقسیم تقریباً مکمل ہونے کے بعد اب حکومت کی توجہ اسمبلی کے مانسون اجلاس پر مرکوز ہوگئی ہے۔ امکان ہے کہ اجلاس کے دوران ریاست کے اہم مسائل پر حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بحث اور سیاسی بیان بازی ہوگی۔
Post a Comment