IMPAR Discusses a Roadmap for Muslim Community Development مسلم برادری کی ترقی کے لیے عملی اقدامات پر زور

مسلم برادری کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور نتیجہ خیز اقدامات پر زور

امپار کی مشاورتی نشست میں تعلیم، معاشی استحکام، نوجوانوں کی ترقی اور مؤثر نمائندگی پر تفصیلی غور

نئی دہلی، 24 اگست (حقیقت ٹائمز)

جسٹس اقبال احمد انصاری کی زیرِ صدارت انڈین مسلمز فار پروگریس اینڈ ریفارمز (امپار) کے زیرِ اہتمام 21 اگست 2026 کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلم برادری کی موجودہ صورتحال، اسے درپیش مختلف چیلنجز، عملی حل اور مستقبل کے لیے ایک مثبت اور تعمیری لائحۂ عمل مرتب کرنے پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں کرناٹک کے سینئر رہنما و سابق وزیر آر روشن بیگ کے علاوہ ملک بھر سے ممتاز مسلم رہنماؤں، ماہرین اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ شرکاء نے مسلم برادری کے بارے میں منفی تصورات اور بیانیوں، بعض سماجی و سیاسی مفادات کے تحت پیدا کیے جانے والے دباؤ، نیز سماجی، سیاسی اور معاشی شعبوں میں برادری کی ناکافی نمائندگی اور شرکت جیسے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔مشاورتی اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ محض مسائل کی نشاندہی اور ان پر بحث کرنے کے بجائے منظم، مسلسل، شواہد پر مبنی اور نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ درپیش چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جاسکے اور برادری کی ترقی کے لیے عملی راستے ہموار ہوں۔

شرکاء نے فیصلہ کیا کہ ذرائع ابلاغ، سماجی و شہری اداروں اور حکومت کے ساتھ تعمیری انداز میں رابطہ مضبوط کیا جائے گا۔ زمینی سطح پر ہونے والی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھی جائے گی اور ضرورت کے مطابق بروقت اور مناسب ردعمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ مسلم برادری کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کرنے اور عوامی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کو بھی مزید مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔

نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشی ترقی پر خصوصی توجہ

اجلاس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کو بھی ترجیحی اہمیت دی گئی۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کو کاروبار، روزگار اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں دستیاب نئے مواقع تک رسائی فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔مشاورتی نشست میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تعمیری رابطہ کاری، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور اجتماعی ذمہ داری کے ذریعے مسلم برادری کی مشکلات کا سامنا کیا جاسکتا ہے اور سماجی، معاشی اور جمہوری زندگی میں اس کی مؤثر شرکت، ترقی اور خوشحالی کے نئے راستے کھولے جاسکتے ہیں۔

اجلاس سے ابھرنے والے اہم پیغام میں تاثر سازی کے مؤثر انتظام کے ساتھ مسائل کی محض نشاندہی سے آگے بڑھ کر اجتماعی اور شواہد پر مبنی عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل کا لائحۂ عمل تعمیری، جامع اور آئینی اقدار، مکالمے اور جمہوری اداروں پر مبنی ہونا چاہیے۔اجلاس کو مسلم برادری کے لیے تعلیم، معاشی مضبوطی، سماجی ہم آہنگی، ادارہ جاتی استحکام اور ہندوستان کی سماجی، معاشی اور جمہوری زندگی میں بامعنی شرکت پر مرکوز ایک عملی اور مستقبل پر مبنی منصوبۂ عمل کی تشکیل کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا۔مشاورتی اجلاس میں امپار کے صدر جسٹس اقبال احمد انصاری، بانی ڈاکٹر ایم جے خان، نائب صدر جاوید یونس، جنرل سکریٹری نثار احمد، سکریٹری فیروز خان غازی، امپار کے ٹرسٹی خالد محمود انصاری کے علاوہ ڈاکٹر ایس فاروق، سراج قریشی، خواجہ افتخار احمد، خواجہ شاہد، آر روشن بیگ، قمر آغا، بریگیڈیئر احمد علی، کرنل حمید، کرنل طاہر مصطفیٰ، اطہر علی، اطہر ضیا، اختر خان سمیت دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

0/Post a Comment/Comments