ڈاکٹر غضنفر اقبال سہروردی کی پچیسویں کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں‘‘ کی رسمِ اجرا
دکن کی 16 اثرآفرین شخصیات کی زندگی اور خدمات سوانحی انداز میں پیش
اورنگ آباد، 16 اگست (محمد یوسف رحیم بیدری)
مطلعِ ادب فاؤنڈیشن، اورنگ آباد کے زیرِ اہتمام 15 اگست 2026ء کو عثمانی فیملی، اورنگ آباد دکن میں معروف اردو قلم کار ڈاکٹر غضنفر اقبال سہروردی کی پچیسویں کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں‘‘ کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ تقریب کی صدارت ممتاز اردو نظم نگار شاعرہ ڈاکٹر رعنا حیدری، سابق صدر شعبۂ اردو، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر مراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد، نے کی اور انہی کے دستِ مبارک سے کتاب کی رسمِ اجرا انجام پائی۔رسمِ اجرا کے بعد صدارتی خطاب میں ڈاکٹر رعنا حیدری نے کہا کہ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے اپنی تازہ سوانحی مضامین کی کتاب میں 16 اثرآفرین شخصیات کی زندگی، شخصیت اور کارناموں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے کتاب کے لیے ایسی شخصیات کا انتخاب کیا ہے جنہوں نے اعلیٰ اقدار کی ترجمانی کی اور اپنے اپنے شعبوں میں منفرد اور نمایاں خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر قاضی رضوانہ شمیم نے کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے معیاری سوانحی مضامین تخلیق کیے ہیں اور منتخب شخصیات کے کردار اور خدمات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ ان تحریروں سے ان شخصیات کی حیات اور علمی و ادبی خدمات نمایاں ہوکر سامنے آتی ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی نے کہا کہ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے اپنے سوانحی مضامین میں دکن کی 16 متاثرکن شخصیات کے حالاتِ زندگی کو پیدائش سے وفات تک مختلف حوالوں سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کتاب کے پسِ ورق پر معروف قلم کار اور مثالی محقق ڈاکٹر انیس صدیقی کے تحریر کردہ دل نشیں تاثرات کے ہر لفظ سے اتفاق کرتے ہیں۔ڈاکٹر سہیل ذکی الدین نے کہا کہ ڈاکٹر غضنفر اقبال کے سوانحی مضامین ممتاز شخصیات کی اعلیٰ اقدار، علمی خدمات اور کارناموں کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے یہ مضامین نئی نسل خصوصاً نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتے ہیں۔اپنی جوابی تقریر میں ڈاکٹر غضنفر اقبال سہروردی نے کہا کہ ان کی پچیسویں کتاب ’’جی سے نہ جائیں گی تمہاری باتیں‘‘ کی رونمائی ان کی ’’استانی ماں‘‘ ڈاکٹر رعنا حیدری کے دستِ مبارک سے ہونا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں شامل شخصیات سے ان کا شخصی ربط رہا ہے اور انہیں ان کی علمی و ادبی صحبتوں سے اپنی بساط کے مطابق استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ انہی شخصیات کی زندگی اور خدمات نے انہیں یہ مضامین تحریر کرنے کی تحریک دی۔تقریب کا آغاز سید عیشل کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ محمد ہشام عثمانی نے اختتام پر تمام مہمانوں اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔تقریب میں ڈاکٹر میر مجاہد علی، ڈاکٹر اسما ثمرین، ڈاکٹر طیبہ صدیقی، ڈاکٹر فاتن اور دیگر اہلِ علم و ادب نے شرکت کی۔ تقریب علمی و ادبی ماحول میں خوش گوار انداز سے اختتام پذیر ہوئی۔
Post a Comment