Coffee Growers Demand Review of Kasturirangan Report کستوری رنگن رپورٹ پر نظرِ ثانی کا مطالبہ، کافی کاشتکاروں کا احتجاج

کستوری رنگن رپورٹ پر نظرِ ثانی کا مطالبہ، کافی کاشتکاروں کا حکومت سے زمینی جائزے کا تقاضا

چکمگلورو کے 137 دیہات کو ماحولیاتی حساس زون میں شامل کرنے پر اعتراض

چکمگلورو، 11 اگست (فیروز نشیمن)

 کرناٹک کافی کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن نے کستوری رنگن رپورٹ کو غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے اس پر نظرِ ثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ریتیش کمار نے کہا کہ مغربی گھاٹ کے تحفظ کے نام پر جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن سے ملناڈ کے عوام، خصوصاً کسانوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے، اس لیے ریاستی حکومت کو زمینی حقائق کا ازسرنو جائزہ لے کر مرکز کو حقیقت پسندانہ رپورٹ پیش کرنی چاہیے۔چکمگلورو پریس کلب میں پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریتیش کمار نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 2014 سے مغربی گھاٹوں کے تحفظ کے لیے 60 دن کی مدت کے ساتھ 7 نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔ اب ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں سے متعلق نئے مسودہ نوٹیفکیشن نے ضلع کے عوام میں مزید بے چینی پیدا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اعتراضات پیش کرنے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ اس مدت کے دوران رہائشی علاقوں، زرعی اراضی، محصولی اراضی، عوامی اثاثوں، جنگلات اور آبی وسائل سمیت تمام پہلوؤں کا زمینی سطح پر ازسرنو سروے کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کیرالہ حکومت کے طرز پر حقیقی زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ تیار کرکے مرکز کو پیش کی جائے تو ملناڈ کے عوام کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا۔

ریتیش کمار نے کہا کہ کستوری رنگن رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اس میں ضروری ترمیم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماحولیاتی حساس علاقوں کے تعین میں انسانی آبادی اور روزگار سے وابستہ زمینوں کی حقیقی صورتحال کو ملحوظ رکھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ چکمگلورو ضلع کے 137 دیہات کو ماحولیاتی حساس علاقے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں کافی کاشتکار غیر قانونی کان کنی یا ریت نکالنے کی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی جنگلات کو تباہ کرکے بڑے پیمانے پر تفریحی مراکز یا ولاز تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تمام سبز علاقوں کو یکساں طور پر ماحولیاتی حساس زون میں شامل کرنے پر بھی اعتراض کیا۔انہوں نے کہا کہ کیرالہ حکومت نے اپنے جائزے میں رہائشی علاقوں، زرعی اراضی، محصولی زمین، جنگلات اور آبی وسائل کو انسانی مداخلت والے اور غیر مداخلت والے علاقوں کے طور پر الگ الگ نشان زد کیا ہے۔ کرناٹک میں بھی اسی طرح زمینی حقائق کے مطابق تفصیلی سروے کرکے رپورٹ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے ریتیش کمار نے کہا کہ ارکان پارلیمان، ارکان اسمبلی اور دیگر عوامی نمائندوں کو اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جن سے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے عوام، کسانوں اور کافی کاشتکاروں کی زندگی اور روزگار متاثر نہ ہو۔پریس کانفرنس میں موڈیگیر کافی کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن کے صدر بی آر بال کرشنا، جنرل سکریٹری کیرمکی مہیش، رتناکر اور چندرے گوڑا سمیت دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments