دعوتِ دین اور معاشرتی اصلاح کے لیے اجتماعی جدوجہد پر زور
آلور میں منعقدہ پروگرام میں دینی اخوت اور حقوق العباد پر گفتگو
ہاسن / آلور 10 اگست (حقیقت ٹائمز)
آلور میں جناب محمد ذبیح اللہ کی رہائش گاہ پر دعوتی و توسیعی جماعتی پروگرام منعقد ہوا، جس میں دینی اخوت، باہمی اتحاد، دعوتِ دین، معاشرتی اصلاح اور انسانیت کی خیرخواہی سمیت مختلف اہم موضوعات پر مقررین نے اظہارِ خیال کیا۔پروگرام کی نظامت منصورہ کے اردو مدرس محسن علی نے کی، جبکہ مولانا نوازش نے تلاوتِ قرآنِ مجید سے پروگرام کا آغاز کیا۔جماعتِ اسلامی ہند ضلع ہاسن کے ناظم شبیر احمد ملا نے افتتاحی خطاب میں دین کی بنیاد پر قائم باہمی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی اخوت اور اللہ کی رضا کے لیے قائم ہونے والا تعلق دنیاوی مفادات اور رشتوں سے بالاتر اور زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے دعوتِ دین، باہمی اتحاد، معاشرتی اصلاح اور انسانیت کی خیرخواہی کو مسلمانوں کی اہم ذمہ داری قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع کسی خونی رشتے یا دنیاوی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلام، دین اور سیرتِ نبوی ﷺ کی نسبت سے قائم ہونے والے دینی تعلق کی بنیاد پر منعقد ہوا ہے۔ اللہ کی خاطر قائم ہونے والا تعلق نہایت مضبوط اور گہرا ہوتا ہے۔
شبیر احمد ملا نے حدیثِ مبارکہ "مَن أَحَبَّ لِلّٰهِ، وَأَبْغَضَ لِلّٰهِ، وَأَعْطَى لِلّٰهِ، وَمَنَعَ لِلّٰهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے لیے محبت کرنا، اللہ کے لیے ناراضی اختیار کرنا، اللہ کی رضا کے لیے دینا اور اللہ ہی کی رضا کے لیے روکنا ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور متنوع معاشرے میں امن و امان، بھائی چارے اور انسانیت کی خیرخواہی کے لیے مل جل کر جدوجہد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر اکبر علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا کافی نہیں، بلکہ اسلام کو سمجھنا، اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ انہوں نے دنیا کی عارضی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں بے شمار لوگ آئے اور اپنی زندگی گزار کر رخصت ہوگئے۔ انسان کی زندگی ختم ہوتے ہی دنیا میں اس کی حیثیت اور شناخت بھی بدل جاتی ہے، اس لیے ہر شخص کو اپنی اصل منزل، یعنی آخرت کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے۔انہوں نے خصوصی طور پر حقوق العباد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ تعلق اور دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ بدلہ لینے کے بجائے عفو و درگزر، محبت، ہمدردی اور خیرخواہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پروگرام میں غفار حامد عمری، اظہر اللہ قاسمی، امیرِ مقامی ہاسن الور شمشیر پاشاہ سمیت دیگر احباب نے شرکت کی۔پروگرام کی اطلاع نبیل احمد ڈیلوی نے دی ہے۔
Post a Comment