کولار کے 130 دیہاتوں میں شدید قلتِ آب، ٹینکروں اور نجی بورویلز سے فوری فراہمی کی ہدایت
پانی کی قلت میں ضابطوں سے زیادہ عوام کی پیاس بجھانا اہم: وزیر رام لنگا ریڈی
کولار، 11 اگست (شبیر احمد)
بارش کی کمی کے باعث کولار ضلع میں پیدا ہونے والی پینے کے پانی کی قلت کے پیش نظر ہنگامی حالات میں ضابطوں سے زیادہ عوام کی پیاس بجھانا اہم ہے۔ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر عملی منصوبہ تیار کرکے پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ یہ ہدایت ریاستی آبی وسائل کے وزیر رام لنگا ریڈی نے افسران کو دی۔کولار شہر کے ضلع پنچایت اجلاس ہال میں وزیر رام لنگا ریڈی کی صدارت میں موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے کرناٹک ترقیاتی پروگرام کے اجلاس میں پینے کے پانی، زراعت، ایتّنا ہولے منصوبے سمیت ضلع کی مجموعی ترقی سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزیر نے واضح کیا کہ کسی بھی وجہ سے عوام کو پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہونی چاہیے اور عوامی نمائندوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔اجلاس میں ضلع کی 154 گرام پنچایتوں کے تحت 1,523 دیہات اور 1,953 آبادی والے علاقوں میں پینے کے پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ مقررہ معیار کے مطابق فی شخص روزانہ کم از کم 55 لیٹر پانی فراہم کیا جانا ضروری ہے۔ تاہم ضلع میں معمول سے تقریباً 47 فیصد کم بارش ہونے کے باعث 130 دیہات میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ٹاسک فورس کو 4 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ وزیر نے انتہائی ضرورت والے علاقوں میں ٹینکروں اور نجی بورویلز کے ذریعے فوری پانی فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
زیر التوا بورویل بلوں کی ادائیگی کی ہدایت
اجلاس میں پرانی ترقیاتی اسکیموں کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ بورویل سے متعلق ٹھیکیداروں کے تقریباً 30 سے 40 کروڑ روپے کے بل زیر التوا ہونے کے باعث نئے بورویل کی کھدائی کے کام میں ٹھیکیدار دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ وزیر نے متعلقہ محکموں کے درمیان تال میل قائم کرکے زیر التوا بلوں کی ادائیگی کی ہدایت دی۔جل جیون مشن کے تحت ضلع کے مجموعی 1,813 دیہات میں سے 623 دیہات میں حوالگی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ نئے بورویلز میں پمپ اور موٹر نصب کرنے کے بعد فوری بجلی کنکشن فراہم کرنے کے لیے بجلی اور دیہی پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق محکموں کو ضروری ہدایات دی گئیں۔اجلاس میں آر او پلانٹس کی دیکھ بھال پر ہر ماہ تقریباً 35 لاکھ روپے خرچ ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ وزیر نے کہا کہ صرف آر او پلانٹس تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی مناسب دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی متعلقہ محکموں کو پوری سنجیدگی سے نبھانی ہوگی۔
مارکنڈیہ اور یراگولو ڈیم سے پانی کی فراہمی متاثر
عوامی نمائندوں نے بڑے پینے کے پانی کے منصوبوں کی صورتحال بھی وزیر کے سامنے رکھی۔ 45 کروڑ روپے کی لاگت سے مارکنڈیہ آبی ذخیرے کے منصوبے کے تحت مالور اور بنگارپیٹ تعلقہ جات کے 186 دیہات کو پانی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، لیکن پمپ اور ٹرانسفارمر خراب ہونے کے باعث فی الحال صرف 26 دیہات کو پانی مل رہا ہے۔ نمائندوں نے خراب پمپ اور ٹرانسفارمر فوری طور پر درست کرنے کا مطالبہ کیا۔یراگولو ڈیم کی مجموعی گنجائش 500 ایم سی ایف ٹی ہے، جبکہ اس وقت تقریباً 140 ایم سی ایف ٹی پانی موجود ہے، جو مزید تقریباً پانچ ماہ کے لیے کافی ہونے کا اندازہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بنگارپیٹ، کولار اور مالور تعلقہ جات میں پینے کے پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔کے جی ایف کی رکن اسمبلی ڈاکٹر روپکلا ششی دھر نے بتایا کہ یراگولو اور مارکنڈیہ ڈیم سے پانی کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث کے جی ایف شہر میں 15 کرائے کے واٹر ٹینکروں کے ذریعے عوام کو پانی فراہم کرنا پڑ رہا ہے۔
ایتّنا ہولے منصوبہ 2 ماہ میں مکمل ہونے کی امید
ایتّنا ہولے منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں وزیر رام لنگا ریڈی نے بتایا کہ 5.8 کلومیٹر کے کام کے لیے ضلع انتظامیہ کے کھاتے میں 29 کروڑ روپے موجود ہیں۔ گُبّی کے قریب 1.8 ایکڑ جنگلاتی اراضی کی حوالگی کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور درختوں کی کٹائی کا کام بھی ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 2 ماہ میں کام مکمل کرکے بھیرگونڈلو تک پانی پہنچایا جائے گا۔زراعت محکمہ کے افسران نے بتایا کہ معمول کے مطابق جولائی تک 90 فیصد بوائی مکمل ہوجانی چاہیے تھی، تاہم بارش کی کمی کے باعث ضلع کی اہم فصل راگی کی صرف 14 فیصد بوائی ہوسکی ہے۔ اگست کے آخر تک بوائی کا موقع موجود ہے۔ کسانوں کے لیے راگی کے بیج، ڈی اے پی، کمپلیکس اور یوریا کھاد کی کوئی قلت نہیں ہے اور مناسب ذخیرہ دستیاب ہے۔
غیر قانونی شراب اور گانجا فروخت کے خلاف سخت کارروائی
تعلیمی محکمہ کے افسران نے اجلاس کو بتایا کہ مہمان اساتذہ کی تقرری تین رکنی کمیٹی کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر شفاف طریقے سے کی گئی ہے، جبکہ طلبہ میں 100 فیصد یونیفارم اور نصابی کتابیں تقسیم کی جاچکی ہیں۔دیہی علاقوں کی بعض دکانوں میں مبینہ طور پر غیر قانونی شراب اور گانجا فروخت کیے جانے کا معاملہ بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔ وزیر نے پولیس محکمہ کو ہدایت دی کہ نوجوانوں اور طلبہ کو منشیات اور غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے صرف جرمانہ عائد کرکے معاملہ ختم نہ کیا جائے بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کرکے سخت کارروائی کی جائے۔پولیس محکمہ میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے عہدوں کی کمی کی جانب بھی وزیر کی توجہ مبذول کرائی گئی۔ سڑکوں اور قومی شاہراہوں کے ترقیاتی کاموں کے دوران جنگلاتی محکمہ کے ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درختوں کی من مانی کٹائی روکنے اور صرف ضرورت کے مطابق درخت ہٹانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
پانی کے مسئلے پر بنگلورو میں خصوصی اجلاس
رام لنگا ریڈی نے کہا کہ کولار ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی کے مسئلے پر آئندہ پیر کو بنگلورو میں متعلقہ افسران کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ضلع میں بیج، چارہ اور کھاد کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ ہونے دی جائے اور زیر التوا فائلوں کو جلد از جلد نمٹایا جائے۔
فوت شدہ استفادہ کنندگان کے کھاتوں میں بھی گرہا لکشمی کی رقم
اجلاس کے اختتامی مرحلے میں گرہا لکشمی اسکیم کی رقم فوت شدہ استفادہ کنندگان کے بینک کھاتوں میں بھی جمع ہونے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سرکاری رقم کے ضیاع کو روکنے کے لیے ایسے کھاتوں میں جمع ہونے والی رقم واپس حاصل کرنے اور مستقبل میں اس طرح کی غلطیوں کی روک تھام کے لیے لیڈ بینک افسران کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں ضمانتی اسکیموں کے نفاذی اتھارٹی کے ریاستی نائب صدر ایس آر مہرُوز خان، ضلع صدر شیواکمار، اراکین اسمبلی کوتّور جی منجوناتھ، کے وائی ننجے گوڈا، ایس این نارائن سوامی، ڈاکٹر روپکلا ششی دھر اور سمردھی منجوناتھ، قانون ساز کونسل کے ارکان ایم ایل انیل کمار اور ڈی ٹی سرینواس، شہری ترقیاتی اتھارٹی کے صدر محمد حنیف، ڈپٹی کمشنر ایم آر روی کمار، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹو افسر ڈاکٹر پروین پی باگے واڑی، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کنیکا سکرِیوال، کے جی ایف کے رکنِ دفاعی انتظامیہ شیوانشو راجپوت، ڈی سیف سرینا سِکّلی گار، ڈپٹی سیکریٹری ٹی کے رمیش، سب ڈویژنل افسر جمبگی رینوکا پرساد دلیپ سمیت مختلف محکموں کے ضلعی سطح کے افسران اور تحصیلدار موجود تھے۔
Post a Comment