SIR Raises Questions Over Form 6 for Old Voters ایس آئی آر: پرانے ووٹروں سے فارم 6 کیوں؟

ایس آئی آر میں حذف ہونے والے پرانے ووٹروں سے فارم 6 کیوں طلب کیا جا رہا ہے؟

پہلے سے درج ووٹروں کے لیے فارم 8 کے بجائے نئی رجسٹریشن کی ہدایت پر سوالات

بنگلورو، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)

کرناٹک میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرست سے نام حذف ہونے والے ایسے ووٹروں کے لیے فارم نمبر 6 کے ذریعے دوبارہ نام درج کرانے کی ہدایت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جو پہلے ہی ووٹر فہرست میں شامل تھے۔ انتخابی عمل سے متعلق ماہرین اور حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر کسی موجودہ ووٹر کے نام یا تفصیلات میں تبدیلی یا غلطی پائی گئی ہو تو اسے فارم نمبر 8 کے ذریعے درست کرنے کا راستہ کیوں نہیں بتایا جا رہا۔کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر وی۔ انبو کمار نے 22 جولائی کو منگلورو میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر حتمی ووٹر فہرست میں کسی ووٹر کا نام موجود نہ ہو تو متعلقہ شخص الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سامنے فارم نمبر 6 داخل کرکے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ مختلف مواقع پر بھی ان کی جانب سے اسی نوعیت کی وضاحت سامنے آچکی ہے۔اس ہدایت کے بعد ان ووٹروں میں یہ امید پیدا ہوئی کہ اگر ایس آئی آر کے دوران نام حذف ہوگیا ہے تو فارم نمبر 6 داخل کرکے دوبارہ ووٹر فہرست میں نام شامل کرایا جاسکتا ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ فارم نمبر 6 بنیادی طور پر نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ پہلے سے ووٹر فہرست میں شامل افراد کی تفصیلات میں ترمیم یا پتہ تبدیل کرنے کے لیے فارم نمبر 8 مقرر ہے۔

فارم 6 نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے

فارم نمبر 6 ان ہندوستانی شہریوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو پہلی مرتبہ ووٹر فہرست میں اپنا نام درج کرانا چاہتے ہیں یا جن کا نام ملک کے کسی بھی انتخابی حلقے کی ووٹر فہرست میں پہلے سے موجود نہیں ہے۔18 سال کی عمر مکمل کرنے والے اہل ہندوستانی شہری، جن کا نام پہلے کسی انتخابی حلقے کی ووٹر فہرست میں درج نہیں ہے، نئے ووٹر کے طور پر فارم نمبر 6 کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔ عمر اور رہائش سے متعلق مقررہ دستاویزات بھی درخواست کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہوتا ہے۔

پہلے سے درج ووٹروں کے لیے فارم 8

فارم نمبر 8 پہلے سے ووٹر فہرست میں شامل افراد کی تفصیلات میں اصلاح، پتہ تبدیل کرنے یا دیگر مقررہ تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ نام، تاریخ پیدائش، والد یا شوہر کے نام، جنس یا تصویر میں غلطی کی صورت میں بھی اسی فارم کے ذریعے اصلاح کی درخواست دی جاسکتی ہے۔اسی طرح ایک انتخابی حلقے کے اندر یا دوسرے حلقے میں رہائش تبدیل ہونے کی صورت میں نئے پتے کے اندراج، ووٹر شناختی کارڈ کے گم یا خراب ہونے پر نئے کارڈ کے حصول اور ووٹر فہرست میں معذوری سے متعلق تفصیلات درج کرانے کے لیے بھی فارم نمبر 8 استعمال کیا جاتا ہے۔

پرانے ووٹروں کو نئی رجسٹریشن کی ضرورت کیوں؟

کرناٹک میں جاری ایس آئی آر کے پس منظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اگر پہلے سے ووٹر فہرست میں موجود کسی ووٹر کے ریکارڈ میں کوئی تضاد یا غلطی پائی گئی ہو تو اسے فارم نمبر 8 کے ذریعے اصلاح کا موقع کیوں نہ دیا جائے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے ووٹروں کو نئے ووٹر کے طور پر فارم نمبر 6 کے ذریعے درخواست دینے کی ہدایت دینے سے ان کا پہلے سے موجود انتخابی ریکارڈ ایک نئے اندراج کے عمل سے مشروط ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی کمیشن کو اس معاملے میں واضح کرنا چاہیے کہ ایس آئی آر کے دوران پہلے سے درج ووٹر کے نام کے حذف ہونے کی صورت میں فارم نمبر 6 ہی کیوں تجویز کیا جا رہا ہے اور فارم نمبر 8 کا طریقہ کار ان معاملات میں کیوں زیرِ بحث نہیں لایا جا رہا۔انتخابی فہرست میں موجود ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ جمہوری عمل کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے ایس آئی آر کے دوران نام حذف ہونے، دوبارہ اندراج اور اصلاح کے لیے استعمال ہونے والے مختلف فارمز کے طریقۂ کار کے بارے میں انتخابی کمیشن کی جانب سے واضح اور جامع رہنمائی ضروری ہے، تاکہ کسی اہل ووٹر کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

0/Post a Comment/Comments