Prakash Raj Claims His Name Deleted After SIR ووٹ کا حق کھونے کا دعویٰ، پرکاش راج کا طنزیہ ردعمل

ایس آئی آر کے بعد ووٹر فہرست سے پرکاش راج کا نام حذف ہونے کا دعویٰ

لاکھوں شہریوں کے ساتھ خاموشی سے میرا نام بھی حذف کیا گیا

بنگلورو، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)

اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے الزام عائد کیا ہے کہ ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے بعد بنگلورو میں ووٹر فہرست سے ان کا نام حذف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسی حلقے میں پیدا ہوئے، تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ یہیں گزارا، اس کے باوجود لاکھوں دیگر شہریوں کے ساتھ ان کا نام بھی خاموشی سے ووٹر فہرست سے نکال دیا گیا۔پرکاش راج نے سماجی رابطوں کے ذرائع پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایس آئی آر کے بعد بنگلورو میں ووٹ دینے کا حق کھونے والے تقریباً 65 لاکھ ووٹروں میں وہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ کوئی اچھی مزاحیہ بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اسی حلقے میں پیدا ہوئے، یہیں رہائش اختیار کی، یہیں اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کی اور اسی شہر میں اپنی تھیٹر کی زندگی شروع کی۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ وہ اسی حلقے سے لوک سبھا انتخابات کے امیدوار بھی رہ چکے ہیں۔

پرکاش راج نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں کہ اپنا ووٹر شناختی کارڈ اور ووٹ دینے کا حق دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انہیں کن مراحل سے گزرنا ہوگا اور کون کون سی دستاویزات جمع کرانی پڑیں گی۔انہوں نے اپنے پیغام میں حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شہری نے حکمرانوں کو ووٹ نہیں دیا تو اس کے ووٹ کے حق کو ختم کرنے کے لیے اقتدار کا استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن عوام کو خاموش نہیں کرایا جاسکتا۔پرکاش راج نے مزید کہا کہ عوام اپنی طاقت کے ذریعے اقتدار میں موجود لوگوں کو ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام طنزیہ انداز میں کرتے ہوئے کہا کہ ’’کھیل شروع ہونے دیں‘‘۔پرکاش راج کے اس دعوے نے کرناٹک میں جاری ایس آئی آر عمل کے دوران ووٹر فہرستوں میں ناموں کی موجودگی، حذف اور دوبارہ اندراج کے طریقۂ کار پر جاری بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تاہم، ان کے ذاتی معاملے میں نام حذف ہونے کی حتمی وجہ اور انتخابی حکام کی جانب سے اس بارے میں وضاحت الگ سے سامنے آنا باقی ہے۔

0/Post a Comment/Comments