Tumakuru Drought: Hemavathi Water Decision Next Week خشک سالی سے ٹمکورو میں پانی اور چارے کا بحران

ٹمکورو میں شدید خشک سالی، ہیماؤتی پانی کی فراہمی پر اگلے ہفتے فیصلہ

جولائی میں بارش 80 سے 90 فیصد کم، کاویری پانی کے اخراج پر بھی تشویش: ڈاکٹر جی پرمیشور

ٹمکورو 11 اگست (حقیقت ٹائمز)

 نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر مال ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ ریاست اس وقت سنگین خشک سالی کی صورتحال سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں تمل ناڈو کو روزانہ 12,000 کیوسک کاویری پانی چھوڑنے سے متعلق کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا حکم تشویش کا باعث ہے۔ اس معاملے پر بدھ کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ڈاکٹر جی پرمیشور نے ٹپٹور کے کشیربھون کے اجلاس ہال میں ٹپٹور اور ٹمکورو سب ڈویژنوں کی ترقیاتی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کرناٹک نے تمل ناڈو کو روزانہ مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ، تقریباً 20,000 کیوسک تک پانی فراہم کیا ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال مختلف ہے اور ریاست خود شدید خشک سالی کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے وقت میں پانی چھوڑنے کا حکم تشویش پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ کرشنا راجا ساگر آبی ذخیرہ بھی پوری طرح نہیں بھرا ہے، جبکہ کَبنِی اور ہیماؤتی میں کچھ مقدار میں پانی موجود ہے جسے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اگر روزانہ 12,000 کیوسک پانی تمل ناڈو کو چھوڑنا ہے تو اتنی مقدار میں پانی ریاست کے پاس دستیاب ہونا ضروری ہے، لیکن فی الحال آبی ذخائر میں پانی کی آمد میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس صورتحال کے پیش نظر تمل ناڈو کو پانی چھوڑنے کے معاملے پر حتمی فیصلہ بدھ کو وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا جائے گا۔

ہیماؤتی کا پانی ٹمکورو کو فراہم کرنے پر آئندہ ہفتے فیصلہ

ٹمکورو ضلع کو ہیماؤتی کا پانی فراہم کرنے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ اس معاملے کو اراکین اسمبلی نے پہلے ہی اجلاس میں اٹھایا ہے۔ آئندہ ہفتے آبپاشی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں ہاسن اور ٹمکورو اضلاع کے اراکین اسمبلی اور کمیٹی کے ارکان مشترکہ طور پر صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔

ٹمکورو میں جولائی کی بارش میں 80 سے 90 فیصد کمی

ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ٹمکورو ضلع میں خشک سالی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جولائی کے دوران معمول کے مقابلے میں بارش میں 80 سے 90 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی صورتحال ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز اور آج ضلع کے مختلف تعلقہ جات کا دورہ کرکے پینے کے پانی اور چارے کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور افسران کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ وزیر اعلیٰ نے بھی منگل کی صبح افسران کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ریاست کی خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور تمام افسران کو معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری طور پر عوام کی ضروریات پوری کرنے کی ہدایت دی۔

خشک سالی کی رپورٹ رواں ماہ مرکز کو پیش کی جائے گی

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی رپورٹ تیار کرکے رواں ماہ کے اندر مرکزی حکومت کو پیش کی جائے گی اور مرکز کی توجہ ریاست کو درپیش مشکلات کی جانب مبذول کرائی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مرکزی حکومت کرناٹک کو ضروری تعاون فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی کی صورتحال کے جائزے کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں تو یہ اچھی بات ہوگی۔ چند روز قبل نئی دہلی میں ریاست سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے عوامی نمائندوں نے شرکت کی۔ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا کہ ریاست کو درپیش کسی بھی مشکل کے وقت تمام عوامی نمائندوں نے متحد ہوکر تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور حکومت کو اس تعاون پر مکمل اعتماد ہے۔

0/Post a Comment/Comments