بائرمَنگلا اور کنچوگارَنہلی میں اراضی حصول کے لیے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ
بڈدی کے کسانوں کا وزیراعلیٰ سے مطالبہ: ریڈ زون سے نجات دلائی جائے، ٹاؤن شپ کے لیے زمین دینے کو تیار
بنگلورو، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)
بڈدی کے اطراف کے کسانوں کے ایک وفد نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کرکے بائرمَنگلا اور کنچوگارَنہلی علاقوں میں اراضی حصول کے لیے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے اور علاقے کو ریڈ زون کی پابندیوں سے آزاد کرانے کی اپیل کی ہے۔ کسانوں نے کہا کہ وہ بڈدی ٹاؤن شپ منصوبے کے لیے اپنی زمین دینے کو تیار ہیں، لیکن گزشتہ 20 برس سے ریڈ زون کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ودھان سودھا میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران وفد نے کہا کہ ریڈ زون کی پابندیوں کے باعث ان کی زمینوں کی ترقی، فروخت اور رہن رکھ کر قرض حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ کسانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر مسئلے کا حل نکالے اور اراضی حصول کے لیے حتمی نوٹیفکیشن جاری کرے۔بائرمَنگلا کے کسان سنیل نے کہا کہ گزشتہ 20 برس سے علاقے کے لوگ ریڈ زون کی وجہ سے مشکلات برداشت کررہے ہیں۔ وِرشبھاوَتی ندی کے آلودہ پانی کے باعث زراعت متاثر ہوئی ہے۔ بعض علاقوں میں ناریل کے باغات بظاہر سرسبز دکھائی دیتے ہیں، لیکن پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آلودگی کے باعث دودھ بھی متاثر ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈ زون کی پابندیوں کے سبب علاقے میں اسپتال، شادی ہال اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تعمیر بھی ممکن نہیں۔ آس پاس کے علاقوں میں بینک زمین کے عوض ایک کروڑ روپے تک قرض فراہم کرتے ہیں، جبکہ ان کے علاقے میں ایک لاکھ روپے کا قرض حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔ ہنگامی حالات یا شادی بیاہ کے موقع پر زمین فروخت کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔
کسانوں نے کہا کہ انہیں مالی معاوضے سے زیادہ ترقیاتی منصوبے میں حصہ داری کی خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ٹاؤن شپ منصوبے کو آگے بڑھاتی ہے تو وہ اپنی زمین فراہم کرکے منصوبے میں حصہ دار بننے کے لیے تیار ہیں۔وفد کے ارکان نے کہا کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر علاقے کی ترقی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ترقی پہلے اور سیاست بعد میں ہونی چاہیے۔ کسانوں نے دعویٰ کیا کہ علاقے کے بیشتر مقامی باشندے ٹاؤن شپ منصوبے کے لیے زمین دینے پر آمادہ ہیں۔80 سالہ بزرگ یلّکّی گوڑا نے کہا کہ وہ گزشتہ 40 برس سے جنتا دل سے وابستہ رہے ہیں، لیکن گزشتہ 20 برس سے علاقے کو ریڈ زون سے آزاد کرنے کی درخواستیں کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ زون کی پابندیوں نے کئی خاندانوں کی معاشی حالت کو شدید متاثر کیا ہے اور اب انہیں امید ہے کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار حکومت اس مسئلے کا مستقل حل نکالے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی سے بات چیت کے لیے انہیں اسمبلی طلب کیا تھا، تاہم بات چیت کے طریقۂ کار پر اختلاف پیدا ہوا۔ کسانوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ معاملے کو سیاسی تنازع بنانے کے بجائے مقامی کسانوں کے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے فیصلہ کریں۔نوجوان کسان ہریش ریڈی نے کہا کہ اگر کسانوں کے مفادات کو واقعی ترجیح دی جاتی تو علاقے کو ریڈ زون میں شامل کرنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بیددی ٹاؤن شپ کبھی ترقی کا خواب تھا، لیکن ریڈ زون اور دیگر تنازعات کے باعث یہ علاقہ بنگلورو کے آس پاس کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہے۔کسانوں نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے مطالبہ کیا کہ بائرمَنگلا اور کنچوگارَنہلی میں اراضی حصول کا عمل تیز کیا جائے، ریڈ زون کی پابندیوں سے نجات دلائی جائے اور بیددی ٹاؤن شپ منصوبے کو مقامی کسانوں کے مفادات کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔
Post a Comment