ایس آئی آر کی جانچ میں تقریباً 3 لاکھ ووٹر دوبارہ فہرست میں شامل
اے ایس ڈی ڈی او فہرست کی تیاری اور تصدیق کے طریقۂ کار پر اٹھے سوالات
بنگلورو، 11 اگست (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک میں جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل تقریباً 3 لاکھ ووٹروں کے نام دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیے جانے کی اطلاع نے انتخابی عمل کے معیار اور شفافیت پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ٹائمز آف انڈیا کی 10 اگست کی رپورٹ کے مطابق، مسودہ انتخابی فہرست جاری کرنے سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی معیار کی جانچ کے دوران کرناٹک کی اے ایس ڈی ڈی او فہرست سے 3 اگست سے 9 اگست کے درمیان تقریباً 2.9 لاکھ نام کم کیے گئے۔ ان میں بنگلورو شہری ضلع میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کیے جانے کی اطلاع ہے۔
اے ایس ڈی ڈی او سے مراد ایسے ووٹر ہیں جن کے بارے میں غیر حاضر، نقل مکانی کرچکے، فوت شدہ، فرضی یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر انتخابی فہرست میں ان کے نام سے متعلق شبہات ظاہر کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان ووٹروں میں سے تقریباً 3 لاکھ افراد کو دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر انہیں مشتبہ فہرست میں شامل کرنے کے فیصلوں میں مزید جانچ کی ضرورت تھی۔فی الحال کرناٹک کی اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں ایک کروڑ سے زائد نام شامل ہونے کی اطلاع ہے۔ ان ووٹروں کو انتخابی فہرست میں اپنا نام برقرار رکھنے یا خارج ہونے سے بچانے کے لیے شناخت اور دیگر متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل ووٹروں کی تعداد ریاست کے مجموعی ووٹروں کا تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔
ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر بنیادی سوالات
رپورٹ میں اے ایس ڈی ڈی او فہرست سے تقریباً 2.9 لاکھ نام کم کیے جانے کو محض اعداد و شمار میں کمی کے طور پر دیکھنے کے بجائے پورے ایس آئی آر عمل کے معیار پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔اگر معیار کی جانچ کے دوران اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کو دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ابتدائی جانچ کے دوران ان کے نام اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل ہی کیوں کیے گئے تھے۔اسی طرح یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ایس آئی آر کے تحت تیار کی جانے والی فہرستوں میں ابتدائی سطح پر مطلوبہ معیار کی جانچ نہیں ہوئی؟ اگر لاکھوں نام بعد کی جانچ میں درست ثابت ہورہے ہیں تو باقی اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل ووٹروں کے بارے میں کیے گئے فیصلوں کی درستگی پر اعتماد کیسے کیا جائے؟رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر کسی زندہ شخص کو غلطی سے فوت شدہ قرار دے کر اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں شامل کیا گیا اور بعد میں اسے دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل کرنا پڑا تو اس طرح کے فیصلوں کی بنیاد کیا تھی اور ابتدائی تصدیق کا عمل کس حد تک مؤثر تھا؟اس صورتحال نے انتخابی فہرستوں کی تیاری، تصدیق، ناموں کے اخراج اور دوبارہ شمولیت کے پورے طریقۂ کار کی شفافیت پر بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن سے وضاحت کا مطالبہ
اے ایس ڈی ڈی او فہرست میں ناموں کی تعداد کم ہونے پر محض اطمینان کا اظہار کرنے کے بجائے اس پورے عمل کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ تقریباً 3 لاکھ ووٹروں کا دوبارہ انتخابی فہرست میں شامل ہونا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران مسلسل جانچ اور تصدیق انتہائی اہم ہے۔ہر اہل شہری کا ووٹ دینے کا حق آئینی حق ہے۔ اس لیے کسی بھی اہل ووٹر کا نام غلطی سے انتخابی فہرست سے خارج نہ ہو، اس کے لیے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر کے تحت اختیار کیے گئے طریقۂ کار، جانچ کے معیار اور ناموں کے اخراج و دوبارہ شمولیت سے متعلق تمام سوالات کا واضح اور قابلِ اطمینان جواب دینا ہوگا۔
Post a Comment