Urdu Markaz Revives After a Decade, Silver Jubilee Plans Begin بھنڈی بازار میں اردو مرکز کی واپسی

اردو مرکز کی واپسی سے بھنڈی بازار کی ادبی رونقیں پھر بحال ہوں گی

بی ایم سی نے کمرہ فراہم کیا، تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کا نیا دور شروع

ممبئی، 30 جولائی (جاوید جمال الدین_خصوصی رپورٹ)

جنوبی ممبئی کے تاریخی اور تہذیبی علاقے بھنڈی بازار میں واقع معروف تعلیمی و ادبی ادارہ اردو مرکز تقریباً ایک عشرے کی طویل بندش کے بعد دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ طویل عدالتی جدوجہد اور مسلسل نمائندگی کے بعد برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن نے امام باڑا میونسپل اردو اسکول میں اردو مرکز کو تعلیمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے ایک کمرہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے علمی و ادبی حلقوں نے نہایت خوش آئند پیش رفت قرار دیا ہے۔اردو مرکز کے ڈائریکٹر اور صدر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ 1999 میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب اپنے قیام کے 26 برس مکمل کر چکا ہے اور اس موقع پر سلور جوبلی تقریبات کے انعقاد کی منصوبہ بندی بھی شروع کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ "اردو مرکز صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ تعلیمی، ادبی اور ثقافتی تحریک ہے، جس کا مقصد نئی نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنا، زبان و ادب سے وابستگی مضبوط کرنا اور مختلف زبانوں اور تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔"انہوں نے بتایا کہ بھنڈی بازار، ناگپاڑہ اور مدن پورہ کا علاقہ ایک صدی سے زائد عرصے سے ممبئی کی ادبی، فکری اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے متعدد نامور ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے اسی خطے سے اپنی ادبی خدمات انجام دیں، جبکہ اردو مرکز کا قیام بھی اسی روشن روایت کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش تھا۔ایڈوکیٹ زبیر اعظمی کے مطابق جولائی 2016 میں اردو مرکز کی سرگرمیاں اچانک معطل ہوگئی تھیں۔ اس وقت بی ایم سی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مرکز میں ہونے والی سرگرمیاں تعلیمی دائرے میں شامل نہیں ہیں، تاہم اردو مرکز نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ تعلیم صرف نصابی اسباق تک محدود نہیں بلکہ کتاب بینی، ادبی نشستیں، تخلیقی سرگرمیاں، ثقافتی تربیت اور شخصیت سازی بھی تعلیمی عمل کا لازمی حصہ ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران بی ایم سی سے بھی تعلیم کے مفہوم پر سوالات کیے، جس کے بعد اردو مرکز کے دلائل کو اہمیت دیتے ہوئے عبوری راحت فراہم کی گئی اور مرکز کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔ اگرچہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے، تاہم بی ایم سی نے مرکز کو دوبارہ سرگرم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اردو مرکز کے آغاز ہی سے میونسپل اسکولوں اور تربیتی اداروں کے طلبہ اس کی سرگرمیوں کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔ یہاں اردو کے ساتھ مراٹھی اور انگریزی زبان کی مفت کلاسیں بھی چلائی جاتی تھیں تاکہ سرکاری اسکولوں کے طلبہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔ رضاکار اساتذہ کئی برسوں تک بلا معاوضہ خدمات انجام دیتے رہے۔ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے کہا کہ اردو مرکز کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کوئی بھی زبان اجنبی نہیں ہوتی، بلکہ ہر زبان علم، تہذیب اور ترقی کا ذریعہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت مستقبل میں بھی اردو کے ساتھ مراٹھی اور انگریزی زبانوں کی تدریس، ادبی نشستیں، مذاکرے اور مشترکہ ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اردو مرکز صرف زبانوں کی تعلیم تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بچوں کے لیے مصوری، کہانی گوئی، کتاب بینی، تخلیقی ورکشاپس، ادبی مقابلے اور دیگر علمی سرگرمیوں کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا جائے گا۔ ادارے کے پاس ہزاروں نایاب اور معیاری کتابوں پر مشتمل قیمتی ذخیرہ موجود ہے، جسے جدید لائبریری نظام کے مطابق منظم کیا جائے گا تاکہ طلبہ، محققین، اساتذہ اور عام قارئین بھرپور استفادہ کر سکیں۔اردو مرکز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اردو کے شیدائی ناصر جمال نے کہا کہ یہ صرف اردو زبان کے لیے نہیں بلکہ پورے شہر کی مشترکہ تہذیبی روایت کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ گھریلو خواتین، ملازمت پیشہ افراد، ڈرائیوروں اور دیگر خواہش مند افراد کے لیے بھی علیحدہ اوقات مقرر کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اردو اور مراٹھی زبان سیکھ سکیں۔اردو مرکز کی بحالی کے لیے مختلف سماجی و عوامی شخصیات نے بھی مسلسل کوششیں کیں، جن میں رکن اسمبلی امین پٹیل، سماجی کارکن رئیس شاہ اور سابق کارپوریٹر جاوید جونیجا نمایاں ہیں۔ ان شخصیات نے بی ایم سی حکام سے متعدد ملاقاتیں کرکے اردو مرکز کی بحالی کے مطالبے کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ایڈوکیٹ زبیر اعظمی نے بتایا کہ اس وقت مرکز میں صفائی، رنگ و روغن اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا کام جاری ہے۔ یہ کام مکمل ہوتے ہی اردو، مراٹھی اور انگریزی زبان کی کلاسیں، لائبریری کی خدمات، بچوں کی تخلیقی سرگرمیاں اور مختلف ادبی و ثقافتی پروگرام دوبارہ شروع کر دیے جائیں گے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اردو مرکز کی شناخت بن جانے والا سالانہ بھنڈی بازار میلہ بھی دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ میلہ صرف ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ بھنڈی بازار کی ادبی، تاریخی، تہذیبی اور روایتی پکوانوں کی رنگا رنگ روایت کا مظہر ہے، جو ممبئی کی گنگا جمنی تہذیب اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔علمی و ادبی حلقوں کا ماننا ہے کہ اردو مرکز کی بحالی نہ صرف اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور طبقات کے درمیان مکالمے، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کو بھی نئی تقویت فراہم کرے گی۔

0/Post a Comment/Comments