Scholars Call for Stronger Urdu Awareness Beyond Cities قصبوں تک اردو بیداری پہنچانے کا عزم

چنگری کے نلور میں کرناٹک اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام سمینار اور مشاعرہ، اردو کے فروغ پر زور

قصبوں تک اردو کی بیداری پہنچانا اکیڈمی کا مقصد : مفتی محمد علی قاضی

چنگری 23 جولائی (الطاف رضوی)

کرناٹک اردو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام تعلقہ چنگری کے قصبہ نلور میں "جشنِ اردو" کے عنوان سے ایک شاندار سمینار اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں اردو زبان و ادب کے فروغ، تحفظ اور بقا سے متعلق مختلف موضوعات پر علمی و ادبی مذاکرے پیش کیے گئے۔ تقریب میں ادباء، شعراء، اساتذہ، سماجی شخصیات اور اردو سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کی صدارت کرناٹک اردو اکیڈمی کے چیئرمین مفتی محمد علی قاضی نے کی، جبکہ افتتاح اگربنے ہٹی سرکاری اردو ہائر پرائمری اسکول کے صدر مدرس سید الیاس کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ معروف شاعر شیخ حبیب نے نعتِ رسولِ مقبولؐ پیش کی، جس کے بعد ناڈ گیت پیش کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں ضلع کانگریس کے نائب صدر امان اللہ چنگری، نلور انجمن کے صدر سید جلیل، سابق تعلقہ پنچایت رکن عثمان شریف، تعلقہ پنچایت کے رکن محمد سیف اللہ اور دیگر معززین نے پودے کو پانی دے کر تقریب کا افتتاح کیا۔سمینار میں مختلف موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی (زبیدہ ڈگری کالج، شکارپور) نے "اردو زبان اور ہماری یونیورسٹیاں"، مدثر احمد شیموگہ (مدیر روزنامہ آج کا انقلاب) نے "اردو کے فروغ میں اکیڈمیوں اور انجمنوں کا کردار"، شبینہ طلعت (سیہادری آرٹس کالج، شیموگہ) نے "اردو کی بقا میں والدین اور اساتذہ کا کردار" جبکہ حفصہ بیگ (کوئمپو یونیورسٹی) نے "اردو زبان و ادب اور ڈیجیٹل دنیا" کے موضوع پر اپنے تحقیقی مقالات پیش کرتے ہوئے اردو کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔سمینار کے بعد منعقدہ مشاعرے کی نظامت معروف شاعر ظہیر احمد فنا نے کی۔ مشاعرے میں ڈاکٹر داؤد محسن، عبیدالرحمن صدا کیرے بلچی، مولانا محمد اظہر ندوی، ثاقب جنیدی، مجاہد خان مجاہد اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا، جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔تقریب کے دوران ادباء، شعراء، سماجی کارکنوں اور نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی تہنیت کی گئی۔ اعزاز حاصل کرنے والوں میں سید الیاس، عبدالمجید، مولانا مفتی محمد فاروق اظہری، مولانا عثمان ندوی، ظہیر احمد خان ظہیر اور تعلقہ میں پہلی مرتبہ دو کتابیں تصنیف کرنے والی حفصہ بیگم شامل تھیں۔ اس موقع پر امان اللہ، سید جلیل، عثمان شریف، ساہرہ بانو، محمد سیف اللہ، اشفاق احمد اور قاضی عبدالقدوس سمیت متعدد شخصیات نے مہمانوں کی گلپوشی کی۔

اپنے صدارتی خطاب میں مفتی محمد علی قاضی نے کہا کہ اردو اکیڈمی صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ قصبوں اور دیہی علاقوں میں بھی اردو زبان و ادب کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا اس کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت نلور جیسے قصبے میں اس سمینار اور مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اکیڈمی کی ذمہ داری سنبھالی تھی تو اس کا بجٹ صرف ایک کروڑ روپے تھا، لیکن ریاستی حکومت سے مسلسل نمائندگی کے بعد اکیڈمی کا بجٹ بڑھ کر تین کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمی پری پرائمری اردو مراکز کی سرپرستی، کتابوں کی اشاعت، اہل قلم کی مالی معاونت اور اردو زبان کے فروغ کے لیے متعدد منصوبوں پر سرگرمی سے عمل کر رہی ہے۔تقریب کی نظامت چنگری، ہونالی اور ہریہر کے اردو تعلیمی صلاح کار محمد ذاکر نے انجام دی، جبکہ آخر میں صحافی الطاف رضوی نے تمام مہمانوں، شرکاء، ادباء، شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

0/Post a Comment/Comments