Tumakuru Protest: CPI(M) Seeks NEET Cancellation and Education Reforms تعلیم کی نجکاری اور مرکزیت کے خلاف سی پی آئی (ایم) کا احتجاج

نیٹ امتحان منسوخ کیا جائے، تعلیم کی نجکاری اور فرقہ واریت پر مبنی پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے: سی پی آئی (ایم)

ٹمکورو میں احتجاج، طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، قومی تعلیمی پالیسی 2020 واپس لینے کا مطالبہ

ٹمکورو، 25 جولائی (حقیقت ٹائمز)

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکس وادی) [سی پی آئی (ایم)] کی ضلع کمیٹی کے زیر اہتمام ہفتہ کے روز تمکور کے ٹاؤن ہال چوک میں نیٹ امتحان، مبینہ پرچہ لیک، طلبہ پر پولیس کارروائی اور قومی تعلیمی پالیسی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں سیکڑوں افراد نے شرکت کرتے ہوئے نیٹ امتحان کو منسوخ کرنے، تعلیم کی نجکاری اور فرقہ وارانہ رجحانات پر مبنی پالیسیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے ریاستی سکریٹری ڈاکٹر کے۔ پرکاش نے کہا کہ تعلیم ریاستوں کے آئینی اختیارات میں شامل شعبہ ہے، لیکن مرکزی حکومت نے اسے اپنے اختیار میں لے کر نیٹ جیسے مرکزی امتحانات نافذ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کی محنت کے باوجود بار بار پرچہ لیک کے واقعات پیش آ رہے ہیں، جنہیں روکنے میں مرکزی حکومت مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ دہلی میں پولیس نے سخت رویہ اختیار کیا، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے کی نجکاری، مرکزیت اور فرقہ واریت کے خلاف تحریک مزید مضبوط انداز میں جاری رکھی جائے گی۔

سی پی آئی (ایم) ریاستی سیکریٹریٹ کے رکن سید مجیب نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو دشمن سمجھ کر ان کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوریت کی روح کے خلاف ہے اور مرکزی حکومت کا یہ طرزِ عمل قابلِ مذمت ہے۔ریاستی کمیٹی کے رہنما ٹی۔ ایل۔ کرشنے گوڑا نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تعلیمی پالیسی ملک کے تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ضلع سکریٹری این۔ کے۔ سبرامنیا نے مطالبہ کیا کہ نیٹ سے متعلق واقعات اور پولیس کارروائی کے نتیجے میں جان گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے، جبکہ پولیس کارروائی میں زخمی ہونے والے تمام طلبہ کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے۔مظاہرے میں سی پی آئی (ایم) کے شہری سکریٹری اے۔ لوکیش، سی آئی ٹی یو کے ضلعی جنرل سکریٹری جی۔ کمل، شیوکمار سوامی، فٹ پاتھ تاجروں کی تنظیم کے وسیم اکرم، اشوتھیا، کسان تنظیم کے ضلعی صدر دودّاننجپا، جمہوری خواتین تنظیم کی ٹی۔ آر۔ کلپنا، رفیق احمد، آٹو ڈرائیورس یونین کے امتیاز، بیڑی مزدور یونین کے عبدالمنّاف سمیت مختلف عوامی اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس موقع پر سی پی آئی (ایم) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے نیٹ پرچہ لیک کے خلاف جدوجہد کرنے والے ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کو مبارک باد پیش کی۔ بیان میں کہا گیا کہ مسلسل عوامی دباؤ اور طلبہ کی قربانیوں کے نتیجے میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا، تاہم صرف استعفیٰ کافی نہیں ہے۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ قومی امتحانی ادارہ کو تحلیل کیا جائے، امتحانی نظام کو دوبارہ ریاستوں کے سپرد کیا جائے اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کو واپس لیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ جب تک تعلیم کی تجارتی، مرکزی اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، تب تک پرچہ لیک اور تعلیمی بے ضابطگیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا، لہٰذا طلبہ اور نوجوانوں کی تحریک آئندہ بھی جاری رہے گی۔

0/Post a Comment/Comments