ایس آئی آر مہم کے دباؤ میں سپروائزر کی موت پر تشویش
سی پی آئی (ایم) کا امدادی مراکز، ملازمین کے تحفظ اور یکساں ہدایات کا مطالبہ
ٹمکورو 4 جولائی (حقیقت ٹائمز)
مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم) کی ضلع تمکورو کمیٹی نے گولور گاؤں کے حدود میں پیش آئے سڑک حادثے میں خصوصی نظرثانی (SIR) کی سپروائزر بھاونا کی موت پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ سرکاری ملازمین، خصوصاً نچلے درجے کے عملے کو حد سے زیادہ کام کے دباؤ، متضاد احکامات اور غیر انسانی طرزِ کار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بوتھ لیول آفیسرز (BLOs)، گرام اکاؤنٹنٹس، آشا کارکنان اور دیگر فیلڈ اسٹاف کو دن بھر مختلف ذمہ داریاں نبھانی پڑ رہی ہیں، جس کے باعث انہیں آرام کا موقع نہیں مل رہا۔ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) سمیت متعدد فرائض ایک ہی ملازم کے سپرد کیے جا رہے ہیں، جس سے جسمانی اور ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سی پی آئی (ایم) نے الزام عائد کیا کہ SIR کے دوران اینومریشن فارم بھرنے کے معاملے میں اعلیٰ حکام کی جانب سے بار بار متضاد ہدایات جاری کی گئیں۔ پہلے فارم نہ بھرنے کی ہدایت دی گئی، بعد ازاں تمام فارم لازمی طور پر مکمل کرنے کا حکم جاری کیا گیا، جس سے فیلڈ عملہ شدید الجھن کا شکار ہوا اور انہیں دوبارہ وہی کام کرنا پڑا، جس سے کام کا بوجھ کئی گنا بڑھ گیا۔پارٹی کے مطابق مختلف ذرائع، جیسے واٹس ایپ، ٹیلی فون، خطوط اور ای میل کے ذریعے ایک دوسرے سے مختلف ہدایات موصول ہونے کے باعث ملازمین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔سی پی آئی (ایم) نے مطالبہ کیا کہ حادثے میں جان گنوانے والی سپروائزر بھاونا کے اہل خانہ کو مناسب مالی معاوضہ دیا جائے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔پارٹی نے مزید مطالبہ کیا کہ ہر وارڈ اور گرام پنچایت کی سطح پر عوام دوست ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں، جہاں شہریوں کو SIR سے متعلق معلومات، فارم بھرنے میں رہنمائی، دستاویزات کی جانچ، درخواستوں کی پیش رفت معلوم کرنے اور شکایات درج کرانے کی سہولت فراہم کی جائے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فیلڈ عملے کو کمپیوٹر، پرنٹر، انٹرنیٹ، ضروری تربیت اور تشہیری مواد مہیا کیا جائے، جبکہ ہر ہیلپ ڈیسک پر کم از کم دو ملازمین تعینات ہوں، جن میں ایک دفتر میں اور دوسرا فیلڈ میں خدمات انجام دے۔ یہ مراکز روزانہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک کام کریں۔

سی پی آئی (ایم) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو متضاد احکامات جاری کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، تمام ہدایات صرف تحریری اور یکساں انداز میں جاری کی جائیں، اور اگر کسی ہدایت میں تبدیلی ضروری ہو تو اس کی واضح وجہ بیان کرتے ہوئے مناسب وقت دیا جائے۔پارٹی نے زور دیا کہ ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت ان کی صحت، کام کے دباؤ اور عوامی خدمات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ اس کے علاوہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ انتظامی نظام زیادہ شفاف، عوام دوست اور ملازم نواز بنایا جا سکے۔
Post a Comment