Dr G. Parameshwara Urges Young Lawyers to Uphold Constitutional Values آئینی اقدار کا تحفظ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری

آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور معیاری قانونی تعلیم کو جمہوریت کی بنیاد 

صوفیہ لاء کالج، ٹمکورو کی تقریبِ تقسیمِ اسناد میں ڈاکٹر جی. پرمیشور کا خطاب

ٹمکورو 4 جولائی (حقیقت ٹائمز)

 نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی. پرمیشور نے کہا ہے کہ ہندوستانی آئین کے دیباچے میں مساوات کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے، لیکن اس پر قانون اور معاشرے میں کس حد تک مؤثر عمل درآمد ہوا ہے، اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مسلسل مطالعہ، تحقیق اور عملی تجربے کے ذریعے خود کو قابل، باصلاحیت اور بااعتماد وکیل کے طور پر تیار کریں۔وہ شیٹّیہلی میں واقع صوفیہ لاء کالج کی تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کر رہے تھے۔ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں چند ہی وکلاء عوام کا اعتماد حاصل کر پاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی گہری قانونی بصیرت اور مؤثر دلائل کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ نئی نسل کے وکلاء کو بھی اسی معیار تک پہنچنے کے لیے مسلسل محنت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں 1,500 سے زائد لاء کالج موجود ہیں اور ہر سال ہزاروں طلبہ قانون کی ڈگری حاصل کرتے ہیں، اس کے باوجود عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد تشویش کا باعث ہے۔ مقدمات کے جلد تصفیے کے لیے عدالتی نظام میں مزید اصلاحات ناگزیر ہیں۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہندوستان عالمی سطح پر قانونی شعبے میں اپنی شناخت مضبوط کر رہا ہے اور ملک کے قانونی ماہرین بین الاقوامی فورمز پر ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ تاہم سائبر جرائم تیزی سے ایک بڑا چیلنج بن رہے ہیں، جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قانونی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملک کی شرحِ خواندگی صرف 12 فیصد تھی، جو آج بڑھ کر تقریباً 80 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ قانون کی تعلیم حاصل کرنے والوں کو صرف پیشہ ورانہ کامیابی ہی نہیں بلکہ قانون کی حفاظت، انصاف کی فراہمی اور سماجی ذمہ داری کو بھی اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ بابائے آئین ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ملک کو ایک مضبوط آئین عطا کیا، جو ہندوستانی جمہوریت کی بنیاد ہے۔ اگر آئین کمزور ہوگا تو جمہوری نظام بھی کمزور پڑ جائے گا، اس لیے آئینی اقدار کا تحفظ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 51(A) میں شہریوں کے بنیادی فرائض اور آرٹیکل 12 تا 35 میں بنیادی حقوق کی وضاحت کی گئی ہے۔ جب شہری اپنے حقوق اور فرائض دونوں سے مکمل واقف ہوں گے، تبھی جمہوریت کے حقیقی مقاصد کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے گا۔تقریب میں مدھوگیری کے رکن اسمبلی و سابق وزیر کے این راجنّا، ایچ ایم ایس تعلیمی اداروں کے چیئرمین و سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر ایس شفیع احمد،آفتاب احمد،آدی چنچنگیری یونیورسٹی کے سائنس دان ڈاکٹر پرشانتھ کالپا، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اشوک کے وی، ضلع گارنٹی عمل درآمد کمیٹی کے صدر چندرشیکھر گوڑا سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

0/Post a Comment/Comments