سی۔ ٹی۔ روی کی سیاست کا محور نفرت ہے: تاج الدین شریف
اشتعال انگیز بیان واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ
ٹمکورو، 27 جولائی (حقیقت ٹائمز)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ضلع صدر تاج الدین شریف نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور رکن قانون ساز کونسل سی۔ ٹی۔ روی کے حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز، قابلِ اعتراض اور سماج میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے۔اپنے بیان میں تاج الدین شریف نے کہا کہ سی۔ ٹی۔ روی کا یہ بیان، جس میں انہوں نے "سینہ چیرنے پر تین حروف بھی نظر نہیں آئیں گے، ملا کا نیٹ سے کیا تعلق ہے؟" جیسے الفاظ استعمال کیے، نہ صرف نامناسب ہے بلکہ اس کا مقصد مختلف طبقات کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان کے سینے میں محبت، انسانیت، باہمی ہم آہنگی اور وطن سے وفاداری ہونی چاہیے، مگر سی۔ ٹی۔ روی کی سیاسی زبان میں بار بار نفرت، تقسیم اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ عوامی مسائل پر بات کرنے میں ناکام بی جے پی رہنما مذہب کی بنیاد پر معاشرے کو تقسیم کرنے کی سیاست کر رہے ہیں۔تاج الدین شریف نے کہا کہ ہندوستان کا دستور تمام شہریوں کو مذہب، ذات اور برادری سے بالاتر ہو کر مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہر شہری کو تعلیم، روزگار اور عوامی معاملات پر اپنی رائے ظاہر کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، اس لیے کسی مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنا کر توہین آمیز بیان دینا جمہوری اقدار اور آئینی روح کے منافی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سی۔ ٹی۔ روی فوری طور پر اپنا بیان واپس لیں اور ریاست کے عوام سے معافی مانگیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ فرقہ وارانہ نفرت اور کشیدگی کو ہوا دینے والے بیانات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق مکمل تحقیقات کی جائیں اور مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔
Post a Comment