ایم پی پرکاش کی عوامی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا: سدارامیا
سرکاری انجینئرنگ کالج کو ان کے نام سے منسوب کرنے کے لیے حکومت کو مکتوب لکھنے کا اعلان
وجئے نگر، 11 جولائی (حقیقت ٹائمز)
سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ وہ حکومت کو مکتوب لکھ کر ہوویناہڈگلی کے سرکاری انجینئرنگ کالج کو سابق وزیر ایم پی پرکاش کے نام سے منسوب کرنے کی سفارش کریں گے تاکہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔وہ ایم پی پرکاش کی 86 ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے ایم پی پرکاش کے مجسمے کی نقاب کشائی بھی کی۔سدارامیا نے کہا کہ ایم پی پرکاش کو دنیا سے رخصت ہوئے 15 سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پوری ریاست کرناٹک ایک دیانت دار، اصول پسند اور عوام دوست رہنما سے محروم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی پرکاش ان سے عمر میں چند برس بڑے تھے اور اپنی پوری سیاسی زندگی میں اصولوں پر قائم رہتے ہوئے عوامی خدمت کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ ایم پی پرکاش نہایت مطالعہ کرنے والے، صاحبِ علم اور دور اندیش سیاست دان تھے۔ مختلف موضوعات پر ان کی گہری معلومات اور سائنسی طرزِ فکر انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتی تھی۔ سدارامیا نے کہا کہ انہیں ایسے باوقار رہنما کے مجسمے کی نقاب کشائی کا موقع ملنا اپنے لیے اعزاز محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں نے تقریباً ایک ہی دور میں سیاست کا آغاز کیا اور قانون ساز اسمبلی میں ایک ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے یاد کیا کہ جب بھی انہیں وزارت کے دوران کسی اہم مسئلے کا سامنا ہوتا تو وہ سب سے پہلے ایم پی پرکاش سے مشورہ کرتے تھے اور ان کی رائے مسائل کے حل میں ہمیشہ معاون ثابت ہوتی تھی۔سدارامیا نے کہا کہ ایم پی پرکاش نے کبھی ذات پات کی سیاست نہیں کی اور نہ ہی سیاسی فائدے کے لیے مذہبی شخصیات کا استعمال کیا۔ اگر وہ ایسا کرتے تو شاید سیاست میں مزید بلند مقام حاصل کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا کہ ایم پی پرکاش سماجی انصاف کے مضبوط حامی تھے اور اپنی پوری سیاسی زندگی میں اپنے نظریات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ہر شعبے کے امور پر گہری نظر رکھتے تھے اور اسمبلی یا کابینہ میں کسی بھی محکمہ سے متعلق سوال کا مدلل جواب دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔سدارامیا نے بتایا کہ جب ایم پی پرکاش کینسر میں مبتلا ہوئے تو وہ ان کی عیادت کے لیے ان کے گھر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی پرکاش نہ سگریٹ نوشی کرتے تھے اور نہ ہی شراب نوشی، اس کے باوجود ان کا کینسر میں مبتلا ہونا ان کے لیے نہایت افسوس ناک اور حیران کن بات تھی۔انہوں نے ماضی کی سیاسی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ 2004 میں جب جنتا دل (ایس) میں وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار پر غور ہو رہا تھا تو ایم پی پرکاش نے ان کے نام کی حمایت کی تھی، لیکن خود کبھی وزارتِ اعلیٰ کی خواہش ظاہر نہیں کی۔سدارامیا نے کہا کہ ایم پی پرکاش کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اسی مقصد سے وہ حکومت کو خط لکھ کر ہووینہڈگلی کے سرکاری انجینئرنگ کالج کو ان کے نام سے منسوب کرنے کی سفارش کریں گے۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ہمپی اتسو کا آغاز بھی ایم پی پرکاش کی تجویز پر ہوا تھا اور اس کے انعقاد کے لیے انہوں نے حکومت سے مالی منظوری حاصل کی تھی۔ سدارامیا نے کہا کہ ایم پی پرکاش اپنی دیانت داری، اصول پسندی، عوامی خدمت اور مثالی کردار کی بدولت ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
Post a Comment