Shivakumar Calls for Joint Action on Karnataka's Priority Projects ریاستی مفاد پر اتحاد کی اپیل، خشک سالی اور آبی منصوبوں پر تعاون کا مطالبہ

ریاستی مفاد پر متحد ہونے کی اپیل، ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے پارلیمنٹ اراکین سے تعاون طلب کیا

خشک سالی، آبپاشی منصوبوں اور مرکزی منظوریوں کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر زور

نئی دہلی، 27 جولائی (حقیقت ٹائمز)

 وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے پیر کو نئی دہلی میں ریاست سے تعلق رکھنے والے اراکینِ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ ریاستی مفاد اور عوامی فلاح کے معاملات میں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر متحد ہو کر کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لیے مرکز سے زیر التوا منصوبوں کی منظوری حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس کے لیے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کا تعاون ناگزیر ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حالیہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران انہیں کرناٹک میں امکانی شدید خشک سالی کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آلمٹی اور ہارنگی آبی ذخائر کے علاوہ بیشتر ڈیموں میں پانی کی سطح نہایت کم ہو چکی ہے، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام اور مویشیوں کے لیے پینے کے پانی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر اعظم کو تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے مرکزی امداد کی درخواست کی گئی ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے ریاست کے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کا تعاون درکار ہے۔ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر کسانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آبی ذخائر میں دستیاب پانی کو مدنظر رکھتے ہوئے فصلوں کی کاشت کریں۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ حکام کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسانوں میں اس سلسلے میں مؤثر بیداری پیدا کریں۔انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ تنگ بھدرا ڈیم کے کریسٹ گیٹ کی تنصیب کے موقع پر مرکزی وزیر برائے جل شکتی سی۔ ایس۔ پاٹل کی موجودگی میں آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کے ساتھ اہم بات چیت ہوئی، جس میں نوَلے متوازن آبی ذخیرہ تعمیر کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ تقریباً 30 ٹی ایم سی پانی محفوظ رکھا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اس موقع پر گوداوری، کرشنا، پینار اور کاویری دریاؤں کو جوڑنے کے مجوزہ منصوبے پر بھی اتفاق رائے قائم ہوا، جسے انہوں نے ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجئے بھی ان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میکے داٹو منصوبے کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ کرناٹک اپنی حدود میں متوازن ڈیم تعمیر کر سکتا ہے اور اس کے لیے کسی دوسری ریاست کی منظوری ضروری نہیں، نہ ہی دیگر ریاستوں کو اس پر اعتراض کا قانونی حق حاصل ہے۔

ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے کہا کہ آج راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر برائے جل شکتی نے بھی ایک سوال کے جواب میں اسی موقف کی توثیق کی، جس پر انہوں نے کرناٹک کی جانب سے مرکز کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بتایا کہ کرشنا واٹر ڈسپیوٹس ٹریبونل کے پانی کی تقسیم سے متعلق فیصلے کے گزٹ نوٹیفکیشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا تھا، تاہم آج اس مقدمے کی جلد سماعت کے لیے خصوصی بنچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مہادائی منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ نئی دہلی میں کرناٹک بھون میں ریاست کے زیر التوا منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک نیا انتظامی نظام قائم کیا جائے گا، جس کے تحت ایک علیحدہ ریذیڈنٹ کمشنر سمیت خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے گی، جو اراکینِ پارلیمنٹ کو منصوبوں سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرنے اور مرکزی سطح پر ان کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے گی۔

0/Post a Comment/Comments