حضرت مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہریؒ کی یاد میں
شفقت، علم، اکابر سے محبت اور خدمتِ دین کا ایک درخشاں باب
از: محمد اویس رشادی عفی عنہ
استاد دار العلوم شاہ ولی اللہ بنگلور
ٹھیک 11 بج کر 47 منٹ پر موبائل کی گھنٹی بجی، دیکھا تو حضرت اقدس مفتی شمس الدین صاحب بجلی دامت برکاتہم کا فون تھا۔ علیک سلیک کے بعد پہلا جملہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ بھئی مولوی صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔ کئی وجہ سے حواس باختہ ہوا، ایک تو مشفق و مہربان کی جدائی، دوسری وجہ بندہ اس وقت ایک سفر پر تھا اتنا دور کہ بظاہر واپس لوٹنے اور آخری دیدار سے محروم ہو جانے کا صدمہ پریشان کرنے لگا۔ الحمد للہ دوستوں کے مشورے سے اسی وقت ٹرین جہاں رکی وہیں اتر جانے میں عافیت سمجھی۔ مولانا عزیر احمد صاحب زید مجدہ کی ہدایت کے مطابق بس کے ذریعہ سنکری، پھر مولانا صہیب احمد صاحب زید علمہ اور مولانا عبید اللہ صاحب زید فضلہ کی رفاقت میں کار کے ذریعہ بنگلور پہنچ گیا۔ یقیناً یہ اللہ کی توفیق اور میرے مشفق کی کشش کا نتیجہ ہے، فللہ الحمد۔
اکابر کے عاشق میرے مشفق کو دیکھنے والوں نے ان میں بیشمار خصوصیات کو دیکھا، آپ کئی ایک خصوصیات کے حامل تھے۔ ان میں ایک نمایاں خصوصیت آپ کی، بلکہ مسجد جمیل کے امام میں جو وصف جمیل تھا، جملہ اکابر سے والہانہ عشق اور ان کے دامن علم و سلوک سے وابستگی تھی۔ جب بھی انھیں اطلاع ملتی کہ فلاں بزرگ تشریف لائے ہیں تو ایک اصلاحی مجلس مدرسہ میں منعقد کرلیتے، مقصد ان سے ان کی برکت حاصل کرنا اور ان کی زیارت سے مشرف ہونا اور تمام طلبہ و اساتذہ کو زیارت سے مشرف کرانا ہوتا۔ نیز جب بھی کوئی بڑا جلسہ ہوتا یا چھوٹی مجلس ہوتی، قرآن و حدیث اور سنت طیبہ کے تذکرے کے بعد کسی کی بات کو نقل کرتے تو وہ اکابر دیوبند اہل اللہ کی بات ہوتی۔ کوئی مجلس ملفوظات اکابر سے خالی نہیں ہوتی۔ اپنی طرف سے گھڑ کر آپ نے کسی اللہ والے اکابر کی طرف منسوب کردیا ہو، ایسا بالکل نہیں ہوتا، بلکہ ایسی پکی بات ہوتی، اکثر اس قول کو نقل کرتے وقت تاریخ، دن اور کس موقعہ پر ارشاد فرمایا اور اس وقت اس مجلس میں کون کون ساتھ رہے اس کا حوالہ بھی دیتے۔ اگر آپ کے خدام و تلامذہ ایک وقت آپ کے ساتھ بیٹھ کر ایک ایک ملفوظ کو سن کر انھیں قلمبند کرلیتے تو شاید ایک بڑا ذخیرہ آپ کے توسط سے محفوظ ہو جاتا، اب یہ محرومی سوچ سوچ کر افسوس ہوتا ہے۔ دل یہ کہتا ہے کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حب الانصار من الایمان، یعنی انصار سے محبت ایمان کا حصہ ہے، ان شاء اللہ اسی طرح اکابر علماء حق سے محبت حق کا اور حقیت کا حصہ ہوگا۔ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کن عالما او متعلما او مستمعا او محبا ولا تکن الخامسہ فتھلک، یعنی عالم بنو یا طالب علم بنو یا علم والوں سے سننے والے بنو یا علم والوں سے محبت کرنے والے بنو، پانچویں نہ بنو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے، ان شاء اللہ میرے مشفق کا شمار اول چاروں جماعت میں ہوگا۔
حج اسلام کا پانچواں اہم رکن اعظم ہے۔ میرے مشفق کو تمام ہی عبادات سے والہانہ تعلق تھا، لمبی نمازیں، فرض روزوں کے علاوہ سنت اور مستحب روزے کا بھی اہتمام کرتے دیکھا گیا۔ اسی طرح حج، بلکہ اس سے کہیں زیادہ والہانہ تعلق، عشق کے درجہ میں حج سے تھا۔ عاشق بن کر حج کرنا بھی پسند تھا، خیر خواہ بن کر حج کرنے والوں کی رہبری بھی آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ جس طرح نماز کی عملی مشق سکھانے والے صلوا کما رایتمونی اصلی کا نقشہ پیش کرتے ہیں، اسی طرح حج سکھانے والے خذوا عنی مناسککم کا منظر دکھاتے ہیں۔ لاکھوں حاجیوں کا حج اللہ نے قبول کیا ہوگا، ان شاء اللہ ان مقبول حج کا ثواب میرے مشفق کے اعمال نامہ میں مرقوم ہوگا۔
جہاں میرے مشفق اکابر کی نسبت سے خواص میں جانے پہچانے تھے، وہیں عامۃ المسلمین میں بھی آپ محتاج تعارف نہیں تھے۔ آپ کا وعظ نصیحتوں سے بھرپور، عبرتناک واقعات سے لبریز، کبھی کبھار لطیفوں کے ذریعہ جھنجوڑنے کا انداز آپ کا بڑا نرالہ تھا۔ ہم تقریر کرتے ہیں تو آدھ پون گھنٹہ کے بعد ہمارا مطالعہ جواب دینے لگتا ہے، لیکن میرے مشفق جس تسلسل کے ساتھ گھنٹوں بات کرتے، کبھی واقعات کا تسلسل ہوتا تو کبھی ملفوظات کا سیل رواں، کبھی لطیفوں کا سلسلہ تو کبھی تنبیہات کی بوچھاڑ، کسی کسی بات پر لوگوں کا پتہ پانی ہو جاتا۔ اللہ آپ کے جملہ مواعظ کو آپ کے لئے ذخیرہ آخرت بنائے۔
میرے مشفق کے بارے میں لوگ سمجھتے ہوں گے کہ آپ بڑے جلالی تھے، جھڑک دیتے تھے، لیکن ایک جماعت یہ کہنے پر مجبور ہے کہ آپ رحم دل بھی تھے۔ الراحمون یرحمھم الرحمن، ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء کی جیتی جاگتی تصویر بھی آپ تھے۔ میرے مشفق میرے مشفق کا تکرار اسی وجہ سے کرنے پر بندہ مجبور ہے کہ بار بار آپ کی شفقتوں کا سایہ مجھے نصیب ہوا۔ 19 سال سے بندہ دار العلوم شاہ ولی اللہ بنگلور میں خدمت کر رہا ہے، میرے مشفق نے ایک دن بھی ترش لہجہ میں گفتگو نہیں فرمایا۔ کبھی کسی کام کا حکم دیتے تو بار بار یہ لفظ کہتے، "گذارش ہے یہ کام کرلیں یا مہربانی ہوگی یہ کام ہو جائے" کا جملہ ہوتا، بندہ اس پر بڑا شرمندہ ہوتا۔ ایک مرتبہ وائس میسیج کے ذریعہ اس طرح کا جملہ آپ نے ارشاد فرمایا تو اسی وقت بندہ نے جواب میں کہا کہ حضرت بندہ شرمندہ ہے، آئندہ ایسا جملہ نہ کہیں، بندہ خادم ہے، حکم دیں، ان شاء اللہ یہ عاجز حکم کی تعمیل کرے گا۔ فقط مجھے نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کو اس سے سابقہ پڑا ہوگا کہ جب بھی کوئی کسی مشکل میں پھنس جاتا وہ بے چین ہو جاتے، اس کی پریشانی دور کرنے کی تگ و دو فرماتے۔ کوئی بیمار ہو جاتا، گھر میں کسی کے بیمار ہونے کی خبر ملتی، خیر خیریت معلوم کرتے، ڈاکٹر حکیم دیسی علاج کی طرف رہبری فرماتے، صحت یابی تک برابر متوجہ رہتے۔ اس طرح میرے مشفق اپنے چھوٹوں کا دل جیتنے پر کامیاب ہوتے۔
رحم دل تو تھے، مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آپ کو غصہ ہی نہیں آتا تھا، بلکہ آتا تھا، جلال میں آجاتے تھے۔ احقاق حق اور ابطال باطل میں غضب ناک بھی ہوتے، آپ بے دریغ بلا جھجک ٹوک دیتے تھے۔ کوئی قرآن غلط پڑھتا، کوئی خلاف سنت عمل کرتا، ناحق کسی پر ظلم ہوتا آپ دیکھتے، اس پر غصہ آتا، نفرت کے درجہ میں اس پر نکیر فرماتے۔ معروف کا حکم آسان ہے، منکر پر نکیر یہ بہت بڑی ذمہداری ہے اور بہت مشکل کام ہے۔ آپ کو ہمیشہ مشکل کام کا بوجھ اٹھاتے دیکھا گیا ہے، منکر پر نکیر جو بہت مشکل کام ہے اس کا بوجھ بھی آپ نے اٹھایا۔
یہ چند نقوش تھے جن کو سپرد قرطاس کردیا گیا ہے، ویسے بیشمار نقوش ہیں جو طوالت چاہتا ہے، ان شاء اللہ کسی وقت ان کو بھی شامل اشاعت کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اللہ ہمیں آپ کے نقوش کو دہرانے اور انھیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین بجاہ سید المرسلین۔
Post a Comment