ریاست کے واجب الادا فنڈز کے اجراء کے لیے ڈاکٹر جی۔ پرمیشور کی مشترکہ نمائندگی کی اپیل
مرکز سے ₹40,000 کروڑ اور زیرِ التوا منصوبوں کی منظوری کے لیے ارکانِ پارلیمنٹ کو متحد ہونے کا مشورہ
نئی دہلی، 27 جولائی (حقیقت ٹائمز)
نائب وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ محصولات ڈاکٹر جی۔ پرمیشور نے ریاست کے تمام لوک سبھا اور راجیہ سبھا ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوں اور مرکز کے پاس زیرِ التوا مالی امداد، ترقیاتی منصوبوں اور اہم تجاویز کی جلد منظوری کے لیے مؤثر نمائندگی کریں۔کرناٹک بھون، نئی دہلی میں پیر کے روز منعقدہ کل جماعتی ارکانِ پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو مختلف مدات میں ₹40,000 کروڑ سے زائد کی رقم اب تک جاری نہیں کی گئی، جبکہ 60 سے زیادہ اہم تجاویز بھی مختلف مرکزی وزارتوں میں زیرِ التوا ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 15ویں مالیاتی کمیشن کے تحت خصوصی امداد ₹5,495 کروڑ، جھیلوں کی ترقی کے لیے ₹3,000 کروڑ، بنگلورو آؤٹر رنگ روڈ کے لیے ₹3,000 کروڑ، جل جیون مشن کے تحت ₹17,554 کروڑ، دیہی بنیادی ڈھانچے کے لیے ₹2,860 کروڑ اور بھدرا اپر کینال منصوبے کے لیے اعلان کردہ ₹5,400 کروڑ سمیت متعدد رقوم ابھی تک ریاست کو موصول نہیں ہوئیں۔ اسی طرح کم از کم امدادی قیمت پر خریدی گئی زرعی پیداوار کی مد میں ₹1,500 کروڑ بھی واجب الادا ہیں۔ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ اگر کرناٹک ترقی کرے گا تو ملک بھی ترقی کرے گا، اس لیے مرکزی حکومت کو ریاست کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور تمام واجب الادا فنڈز اور منصوبوں کی منظوری فوری طور پر دی جانی چاہیے۔انہوں نے ریاست میں جاری شدید خشک سالی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سال سپر ایل نینو کے اثرات کے باعث بارش میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے، درجۂ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 169 سے زیادہ تعلقوں میں معمول کے مطابق بارش نہیں ہوئی، جس کے باعث بوئی گئی فصلیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 26 جولائی تک ریاست میں معمول کے مطابق 427 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی، لیکن صرف 279 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، یعنی مجموعی طور پر 35 فیصد بارش کی کمی ہے۔ مالیناڈ، ساحلی، جنوبی اور شمالی اندرونی علاقوں میں بھی معمول سے کہیں کم بارش ہوئی ہے، جس سے زرعی اور باغبانی شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں صرف 55 فیصد خریف بوائی مکمل ہو سکی ہے، جبکہ باغبانی فصلوں کی کاشت بھی ہدف سے بہت کم رہی ہے۔ ریاست کے 14 بڑے آبی ذخائر اپنی مجموعی گنجائش کے صرف 49 فیصد تک بھرے ہیں، جس سے آئندہ دنوں میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی پر بھی سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
نائب وزیرِ اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ خشک سالی کے اعلان کے موجودہ مرکزی ضابطوں میں نرمی کی جائے تاکہ متاثرہ ریاستوں کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ برس بھی کرناٹک کو خشک سالی کی امداد کے حصول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا تھا، جو وفاقی نظام کے لیے مناسب مثال نہیں ہے۔انہوں نے اجلاس میں بھدرا اپر کینال، میکے داٹو، مہادائی، کلسا۔بندوری، کرشنا آبی تنازع، بنگلورو مضافاتی ریل منصوبہ، بنگلورو۔ممبئی تیز رفتار ریل راہداری، وجئے پور ہوائی اڈہ، کولار ریلوے کوچ فیکٹری، تمکور۔رائدورگ ریلوے لائن اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی فوری منظوری کا بھی مطالبہ کیا۔ڈاکٹر جی۔ پرمیشور نے کہا کہ کرناٹک ملک کی معیشت میں نمایاں حصہ ادا کرتا ہے اور مرکز کو مختلف ٹیکسوں کی صورت میں ₹5 لاکھ کروڑ سے زائد کا تعاون دیتا ہے، اس لیے ریاست کو اس کا آئینی اور جائز حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرناٹک کسی سے خیرات نہیں مانگ رہا بلکہ وفاقی نظام کے تحت اپنے قانونی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے۔انہوں نے تمام ارکانِ پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ، متعلقہ مرکزی وزارتوں اور ہر مناسب فورم پر کرناٹک کے مفادات کی بھرپور وکالت کریں تاکہ ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کو بروقت منظوری اور مالی وسائل حاصل ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ "مضبوط کرناٹک ہی مضبوط بھارت کی بنیاد ہے۔"
Post a Comment