National Ahinda Organization Demands Impartial Probe into Meerut Protest Incident میرٹھ واقعہ: غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ، مبینہ پولیس کارروائی پر تشویش

میرٹھ واقعے پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ

قومی اہندا تنظیم نے مبینہ پولیس کارروائی پر اظہارِ تشویش کیا

ہبلی، 16 جولائی (حقیقت ٹائمز)

 قومی اہندا تنظیم کے ریاستی تشہیری کمیٹی کے صدر بابا جان مدھول اور تنظیم کے ریاستی صدر متنا شوالی نے اتر پردیش کے ضلع میرٹھ میں ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران دلت وکیل اور مظاہرین پر مبینہ پولیس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ہبلی میں جاری ایک بیان میں تنظیم کے ذمہ داران نے کہا کہ میرٹھ میں ایک طالبہ کی مبینہ عصمت دری اور قتل کے واقعے کے بعد دلت تنظیموں کی جانب سے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق اسی دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا اور بعض افراد کو حراست میں لیا، جس میں ایک دلت وکیل کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی بھی کی گئی۔تنظیم نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش پانڈے کی موجودگی میں لاٹھی چارج کیا گیا، جس سے متعدد افراد متاثر ہوئے۔ تنظیمی رہنماؤں نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کوئی پولیس افسر قصوروار پایا جائے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ احتجاج اور مظاہروں سے نمٹنے کے دوران پولیس کو آئینی اور قانونی دائرۂ کار میں رہتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے اور طاقت کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں ہی کیا جانا چاہیے۔ تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں سزا یا بے گناہی کا فیصلہ عدالت کا اختیار ہے، اس لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تنظیم نے طالبہ کے قتل کی مکمل، شفاف اور تیز رفتار تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اصل ملزمین کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔اس موقع پر بابا جان مدھول، متنا شوالی، مولا صاحب نداف، وجے کمار، کے شری دھر، رمیش بھوسلے، ونائک گاڈی وڈر، کیشو مورتی، مولا علی ملا، پیر صاحب نداف، بیرپا کٹگی اور دیگر تنظیمی عہدیداران موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments