ممبئی کی زندگی کا انحصار مانسون پر کیوں؟
بارش، پانی کی فراہمی، شہری انتظام اور آبی ذخائر کی مکمل کہانی
خصوصی رپورٹ: جاوید جمال الدین
ممبئی کو قدرت نے بحیرۂ عرب کے ساحل پر بسایا ہے، مگر اس عظیم شہر کی زندگی کا حقیقی انحصار مانسون پر ہے۔ ہر سال جون سے ستمبر تک ہونے والی بارشیں صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زائد شہریوں کے پینے کے پانی، شہری نقل و حمل، نکاسیٔ آب، صحت عامہ، صنعت، تجارت اور مجموعی معیشت کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اسی لیے ممبئی میں مانسون کو محض ایک موسمی عمل نہیں بلکہ ایک منظم شہری انتظامی نظام کا اہم ترین حصہ تصور کیا جاتا ہے۔جنوب مغربی مانسون عموماً یکم سے 10 جون کے درمیان ممبئی پہنچتا ہے، اگرچہ بعض برسوں میں چند روز کی تاخیر یا قبل از وقت آمد بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ جولائی اور اگست میں بارش اپنے عروج پر ہوتی ہے، جبکہ ستمبر کے آخر تک مانسون بتدریج رخصت ہونے لگتا ہے۔ انہی چار مہینوں کے دوران شہر اپنی سال بھر کی آبی ضروریات کے لیے پانی ذخیرہ کرتا ہے۔
ممبئی میں موسم کی پیش گوئی کی ذمہ داری ہندوستانی محکمۂ موسمیات (IMD) کے علاقائی مرکز پر ہوتی ہے۔ جدید ڈوپلر ویدر ریڈار، سیٹلائٹ تصاویر، خودکار موسمی اسٹیشن، بارش پیما آلات، سمندری موسمی مشاہدات اور جدید کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے ہر چند گھنٹوں بعد موسم کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ان معلومات کی بنیاد پر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل، فائر بریگیڈ، اسٹورم واٹر ڈرین محکمہ، پولیس، BEST، محکمۂ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کو بروقت الرٹ جاری کیے جاتے ہیں تاکہ ممکنہ شہری سیلاب، پانی جمع ہونے، درخت گرنے یا دیگر ہنگامی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔بی ایم سی نے شہر کے مختلف وارڈوں، فائر اسٹیشنوں اور اہم مقامات پر خودکار بارش پیما (Automatic Rain Gauges) نصب کر رکھے ہیں۔ان میں "ٹِپنگ بکٹ رین گیج" استعمال کیا جاتا ہے۔ جب 0.25 ملی میٹر پانی جمع ہوتا ہے تو پیمانہ جھک کر برقی سگنل مرکزی سرور کو بھیج دیتا ہے، جس سے ہر چند منٹ بعد شہر کے ہر حصے میں ہونے والی بارش کا درست ریکارڈ دستیاب ہو جاتا ہے۔اسی نظام کی مدد سے انتظامیہ فوری طور پر یہ جان لیتی ہے کہ کس علاقے میں کتنی بارش ہوئی، کہاں پانی جمع ہونے کا خطرہ ہے اور کہاں امدادی کارروائی کی ضرورت ہے۔
بارش ہمیشہ ملی میٹر (mm) میں ناپی جاتی ہے۔10 ملی میٹر: ہلکی بارش، 25 تا 50 ملی میٹر: درمیانی بارش ،50 تا 100 ملی میٹر: شدید بارش ،100 ملی میٹر سے زیادہ: انتہائی شدید بارش، جس سے شہری سیلاب اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ممبئی کی سات جھیلیں: شہر کی آبی زندگی کا مرکز
ممبئی کو پینے کا پانی سات بڑی جھیلوں سے حاصل ہوتا ہے: بھاتسا ، اپر ویتارنا ،مڈل ویتارنا ،تانسا ،مودک ،ساگر ، وہار اور تلسی ۔ان جھیلوں کی مجموعی مفید ذخیرہ گنجائش تقریباً 14 لاکھ 47 ہزار 363 ملین لیٹر ہے، جو پورے شہر کی سالانہ ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔بی ایم سی روزانہ تقریباً 3,850 سے 4,000 ملین لیٹر پانی مختلف علاقوں کو فراہم کرتی ہے، جبکہ شہر کی حقیقی طلب اس سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے مانسون کے دوران جھیلوں کا مکمل بھر جانا نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔یہ عام تصور درست نہیں کہ شہر میں ہونے والی بارش سے جھیلیں فوراً بھر جاتی ہیں۔درحقیقت جھیلوں میں پانی ان کے کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی بارش سے جمع ہوتا ہے۔ اگر ممبئی شہر میں موسلادھار بارش ہو لیکن جھیلوں کے اطراف پہاڑی علاقوں میں مناسب بارش نہ ہو تو آبی ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوتا۔

اگر جون کے آخر سے اگست تک مسلسل اور مناسب بارش جاری رہے تو عموماً اگست کے اختتام یا ستمبر کے پہلے نصف تک ساتوں جھیلیں اپنی مکمل یا قریب قریب مکمل گنجائش تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہی پانی اگلے مانسون تک شہر کی ضروریات پوری کرتا ہے۔بی ایم سی کا ہائیڈرولک انجینئرنگ محکمہ روزانہ جھیلوں میں موجود پانی، گزشتہ 24 گھنٹوں کی بارش، ہر جھیل میں پانی کی آمد اور مجموعی ذخیرہ آب کی رپورٹ جاری کرتا ہے، جو شہریوں، میڈیا اور انتظامیہ کے لیے بنیادی حوالہ ہوتی ہے۔
جنوبی ممبئی اور مضافات کا نکاسیٔ آب نظام
جنوبی ممبئی کا ڈرینج سسٹم برطانوی دور میں سائنسی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا تھا، جو مناسب دیکھ بھال کے باعث آج بھی مؤثر ثابت ہوتا ہے۔اس کے برعکس مضافاتی ممبئی میں 1970 کے بعد تیزی سے آبادی بڑھی، مگر نکاسیٔ آب کا نظام اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکا۔ اسی وجہ سے اندھیری، کرلا، سائن، چیمبور، ملاد، قندیولی، بوریولی، بھانڈوپ اور دیگر نشیبی علاقوں میں ہر سال شدید بارش کے دوران پانی جمع ہونے کے واقعات پیش آتے ہیں۔
کنکریٹ کا جنگل اور شہری سیلاب
تیز رفتار شہری ترقی، فلک بوس عمارتوں، سڑکوں، پارکنگ اور تجارتی منصوبوں نے زمین کی قدرتی جذب کرنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔نتیجتاً بارش کا زیادہ تر پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے سڑکوں اور نالوں میں بہنے لگتا ہے، جس سے شہری سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ممبئی کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ پانی کے بنیادی ذرائع وہی سات جھیلیں ہیں۔ اسی لیے بارش کے پانی کے ذخیرے (Rainwater Harvesting)، پانی کے مؤثر استعمال اور ضیاع کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں صرف وہار اور تلسی شہر کی حدود میں واقع ہیں، جبکہ بھاتسا، اپر ویتارنا، مڈل ویتارنا، تانسا اور مودک ساگر تقریباً 70 سے 120 کلومیٹر دور واقع ہیں۔ان جھیلوں سے پانی پائپ لائنوں، سرنگوں، پمپنگ اسٹیشنوں اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے ذریعے شہر تک پہنچایا جاتا ہے۔
جب مانسون کے دوران جھیلیں مکمل بھر جاتی ہیں تو حفاظتی نقطۂ نظر سے اضافی پانی اسپل ویز (Overflow Gates) کے ذریعے چھوڑ دیا جاتا ہے، جو دریاؤں اور ندی نالوں سے گزرتا ہوا آخرکار بحیرۂ عرب میں جا ملتا ہے۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں اس اضافی پانی کو محفوظ کرنے اور زیرزمین ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر مزید توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سال 2026 میں مانسون کی آمد نسبتاً سست رہی، جس کے باعث جون کے پہلے تین ہفتوں تک ساتوں جھیلوں میں پانی کی مقدار معمول سے کم رہی اور پانی کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
تاہم جون کے آخری ہفتے میں شہر اور خصوصاً جھیلوں کے کیچمنٹ علاقوں میں ہونے والی اچھی بارش کے باعث آبی ذخائر میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگر جولائی اور اگست میں معمول کے مطابق بارش جاری رہی تو توقع ہے کہ جھیلیں مطلوبہ سطح تک بھر جائیں گی اور شہر کو پانی کی فراہمی میں کوئی بڑا بحران پیش نہیں آئے گا۔
آبی ذخائر، ماحولیات اور قبائلی بستیاں
جھیلوں کے اطراف وسیع جنگلات اور محفوظ کیچمنٹ علاقے موجود ہیں، جہاں آلودگی سے بچانے کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین نافذ ہیں۔ان جنگلات میں صدیوں سے قبائلی برادریاں آباد ہیں۔ ایک عرصے تک یہ لوگ انہی جھیلوں کے قریب رہنے کے باوجود پینے کے صاف پانی سے محروم رہے۔اب بی ایم سی نے متعلقہ محکموں کے تعاون سے ان دیہات کو ضابطوں کے مطابق انہی آبی ذخائر سے پینے کا پانی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے سماجی انصاف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ممبئی کا مانسون صرف بارش کا موسم نہیں بلکہ شہر کے پانی، معیشت، صحت، ٹرانسپورٹ اور شہری انتظام کا بنیادی ستون ہے۔ جدید موسمیاتی ٹیکنالوجی، خودکار بارش پیما نظام، سات جھیلوں کی مسلسل نگرانی، مؤثر نکاسیٔ آب اور منظم شہری منصوبہ بندی ہی اس میگا سٹی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ضمانت ہیں۔اس لیے ممبئی میں برسنے والی ہر بوند محض بارش نہیں، بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، روزگار اور آنے والے کل کی امید بھی ہے۔
میں آپ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔
ReplyDeletePost a Comment