محمد رفیعؔ صرف ایک آواز نہیں، برصغیر کی موسیقی کی پہچان ہیں
برسی پر عقیدت کے رنگ، مداح کی انوکھی محبت آج بھی مثال بنی ہوئی ہے
ممبئی / جدہ 30 جولائی (جاوید جمال الدین)
برصغیر کی فلمی موسیقی کی تاریخ میں اگر کسی آواز کو لازوال حیثیت حاصل ہے تو وہ بلا شبہ محمد رفیعؔ کی آواز ہے۔ اپنی بے مثال گائیکی، انکساری، خوش اخلاقی اور فن سے غیر معمولی وابستگی کے باعث وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں موسیقی کے شائقین کے دلوں پر آج بھی راج کر رہے ہیں۔ ان کی رحلت کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ان کے نغموں کی تازگی اور مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ بزرگوں کے ساتھ نوجوان نسل بھی اسی محبت اور وارفتگی کے ساتھ ان کے گیت سنتی اور گنگناتی ہے۔31 جولائی 1980ء کو محمد رفیعؔ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ، جمعہ کا بابرکت دن اور ممبئی میں موسلا دھار بارش کے باوجود باندرہ سے سانتا کروز کے جوہو مسلم قبرستان تک لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ معروف صحافی حسن کمال نے اس موقع پر اپنے تاثرات میں لکھا تھا کہ رمضان اور جمعہ جیسے بابرکت دن ایک نیک سیرت انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت کی علامت ہیں۔ آج بھی ان کے جنازے کا وہ منظر موسیقی سے محبت کرنے والوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔محمد رفیعؔ 24 دسمبر 1924ء کو پنجاب کے ضلع امرتسر کے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں ایک فقیر کی پرسوز آواز نے ان کے دل میں موسیقی کا شوق پیدا کیا۔ ان کے بڑے بھائی حمید نے اس صلاحیت کو پہچانا اور انہیں باقاعدہ موسیقی کی تعلیم دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد محمد رفیعؔ نے اپنی منفرد آواز اور ہر جذبے کو پوری شدت سے پیش کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے ذریعے ایسا مقام حاصل کیا جو بہت کم فنکاروں کے حصے میں آتا ہے۔ انہوں نے رومانوی گیت، درد بھرے نغمے، قوالیاں، بھجن، نعتیں، غزلیں، قومی نغمے اور مزاحیہ گیت، ہر صنف میں اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ان کی آواز کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر اداکار کی شخصیت اور انداز کے مطابق اپنی آواز کو ڈھال لیتے تھے۔ انہوں نے پرتھوی راج کپور، راج کپور، شمی کپور، رندھیر کپور اور رشی کپور سمیت کپور خاندان کی کئی نسلوں کے لیے گیت گائے۔ شمی کپور نے محمد رفیعؔ کے انتقال پر رنج و غم کے عالم میں کہا تھا: "میری آواز چلی گئی۔" یہ جملہ آج بھی محمد رفیعؔ کے فن کی عظمت کا سب سے بڑا اعتراف سمجھا جاتا ہے۔محمد رفیعؔ کے ہزاروں مقبول نغموں میں چودھویں کا چاند ہو، تیری پیاری پیاری صورت کو، چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے، دل کے جھروکے میں، بابل کی دعائیں لیتی جا، تعریف کروں کیا اس کی، یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں، تیری آنکھوں کے سوا، پردہ ہے پردہ، یہ ریشمی زلفیں، آدمی مسافر ہے، جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا، سہانی رات ڈھل چکی، بار بار دیکھو اور آنے سے اس کے آئے بہار جیسے لازوال گیت شامل ہیں، جو آج بھی موسیقی کے شائقین کی اولین پسند ہیں۔

محمد رفیعؔ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں متعدد فلم فیئر ایوارڈز سے نوازا گیا، جبکہ حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری کے اعزاز سے بھی سرفراز کیا۔ ان کے گائے ہوئے ہزاروں نغمے آج بھی مختلف زبانوں اور ملکوں میں یکساں مقبول ہیں۔محمد رفیعؔ کے چاہنے والے صرف ہندوستان تک محدود نہیں تھے بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ تک ان کے مداح موجود تھے۔ انہی مداحوں میں افغان نژاد امان اللہ نظامی بھی شامل تھے، جو برسوں سعودی عرب کے شہر جدہ میں مقیم رہے۔
امان اللہ نظامی کو ہندی فلموں اور فلمی موسیقی سے غیر معمولی شغف تھا۔ انہوں نے اپنے گھر کو ایک منفرد فلمی میوزیم کی شکل دے رکھی تھی، جہاں 1930ء کی دہائی سے لے کر جدید دور تک کی ہزاروں فلموں کے ویڈیو کیسٹ، سی ڈیز، نادر تصاویر، فلمی رسائل اور دیگر قیمتی یادگاریں محفوظ تھیں۔ انہوں نے اپنے مکان میں ایک نجی تھیٹر بھی قائم کیا تھا، جہاں فلمی تاریخ کا نایاب سرمایہ محفوظ رکھا گیا تھا۔محمد رفیعؔ سے ان کی والہانہ عقیدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 31 جولائی 1980ء، جس روز محمد رفیعؔ کا انتقال ہوا، اسی دن ان کے بڑے صاحبزادے کی ولادت ہوئی۔ انہوں نے خاندانی اختلاف کے باوجود اپنے بیٹے کا نام محمد رفیع رکھا اور کہا کہ اپنے محبوب گلوکار کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا اس سے بہتر طریقہ ممکن نہیں۔
امان اللہ نظامی پرانی ہندی فلموں کے چلتے پھرتے انسائیکلوپیڈیا سمجھے جاتے تھے۔ کسی بھی فلم، اداکار، اداکارہ، موسیقار یا گیت کا ذکر ہوتا تو وہ اس کی مکمل تفصیلات بیان کر دیتے تھے۔ محمد رفیعؔ کے بے شمار گیت انہیں ازبر تھے اور وہ ہر محفل میں بڑے شوق سے ان کا تذکرہ کرتے تھے۔اگرچہ امان اللہ نظامی آج اس دنیا میں موجود نہیں، مگر ان کی قائم کردہ فلمی یادگار اور محمد رفیعؔ سے ان کی بے مثال محبت اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ عظیم فنکار اپنے فن کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
شاعر کے یہ اشعار آج بھی محمد رفیعؔ کی شخصیت کی مکمل ترجمانی کرتے ہیں:
تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے
محمد رفیعؔ صرف ایک گلوکار نہیں تھے بلکہ برصغیر کی موسیقی کا ایسا روشن باب تھے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکتا۔ ان کی آواز آج بھی دلوں کو چھوتی ہے، یادوں کو تازہ کرتی ہے اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی طرح مسحور کرتی رہے گی جیسے گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتی آ رہی ہے۔
Post a Comment