Dr S. K. Karim Khan: A Forgotten Architect of Unity and Heritage بیسویں برسی پر ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان کو خراجِ عقیدت
byHAQEEQAT TIMES (Administrator)-0
ایک عظیم شخصیت، جسے تاریخ نے یاد رکھا مگر نظام نے نظر انداز کیا
ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان کی بیسویں برسی پر ان کے ورثے کو سلام
بنگلورو، 28 جولائی (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک کی ادبی، ثقافتی اور سماجی تاریخ میں چند ایسی شخصیات ہیں جن کی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ انہیں کسی ایک شعبے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان ایسی ہی ایک ہمہ جہت، باوقار اور غیر معمولی شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی زبان، ثقافت، عوامی خدمت، قومی یکجہتی اور انسان دوستی کے لیے وقف کر دی۔ ان کی بیسویں برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ احساس اور بھی گہرا ہوتا ہے کہ ان جیسی شخصیات کو وہ ادارہ جاتی اعتراف اور قومی احترام نہیں مل سکا جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق تھیں۔
ڈاکٹر کریم خان نے تحریکِ آزادی سے لے کر آزادی کے بعد کی قومی تعمیر تک ہر مرحلے میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ کانگریس، بھارت سیوا دل، کرناٹک کے اتحاد کی تحریک، لوک ادب، کنڑ تھیٹر، کنڑ ادب اور کنڑ فلمی دنیا میں اپنی گراں قدر خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کی شخصیت نے مختلف میدانوں میں ایسی روشن مثالیں قائم کیں جو آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں انہیں "نادوجا"، "جناپد بھیشم"، "جناپد گاروڈیگا" اور "مالیناڈو گاندھی" جیسے باوقار خطابات سے نوازا گیا، جو ان کی علمی، ادبی اور سماجی عظمت کے آئینہ دار ہیں۔اگرچہ بنگلورو کی اندرانگر سو فٹ روڈ کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا، لیکن یہ فیصلہ بھی طویل سیاسی تنازعات اور غیر ضروری اختلافات کے بعد ممکن ہو سکا۔ 2014 میں کنڑ نواز تنظیموں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں اس سڑک کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا، مگر افسوس کہ آج وہاں نصب کئی خوبصورت یادگاری تختیاں غائب ہو چکی ہیں، باقی ماندہ تختیاں بھی برسوں سے مرمت اور رنگ و روغن کی منتظر ہیں، جبکہ بعض پر اشتہاری پوسٹر چسپاں ہیں۔ یہ صورتحال ایک عظیم ادبی و ثقافتی شخصیت کے ساتھ ہماری اجتماعی بے توجہی کی عکاس ہے۔
ڈاکٹر کریم خان کی تصانیف، جو گزشتہ صدی کی پانچویں دہائی میں شائع ہوئی تھیں، آج عوامی دسترس سے تقریباً باہر ہیں۔ ان کے لوک گیت، بنگلورو اور مگاڈی کے کیمپے گوڑا پر مبنی ڈرامے، اور کہانیوں کے مجموعے "نیوارا" اور "نیہارا" دوبارہ شائع ہونے اور نئی نسل تک پہنچنے کے منتظر ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حال ہی میں انڈین ہیریٹیج اکیڈمی اور عظیم پریم جی یونیورسٹی نے "جناپد جنگما – جناپد سوبگو" کے عنوان سے ان کی خدمات پر ایک یادگار پروگرام منعقد کیا، جبکہ ان کے تاریخی ڈرامے "بلیدانی حسین" کی اشاعتِ نو کے لیے ان کے اہلِ خانہ کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے تمام علمی و ادبی سرمایہ کو مرتب کرکے دوبارہ شائع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈاکٹر کریم خان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر جامع تحقیق نہ ہونے کے باعث شاید وہ ادارہ جاتی اعزازات بھی ان سے دور رہے جن کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔ وہ کرناٹک قانون ساز کونسل کی رکنیت سے محروم رہے، عالمی کنڑ ادبی کانفرنس کی صدارت تک نہ پہنچ سکے، اور اگرچہ ان کے نام کی سفارش چھ مرتبہ پدم اعزاز کے لیے کی گئی، مگر یہ اعزاز بھی انہیں نہ مل سکا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا نام عوامی حافظے سے بھی دھندلاتا چلا گیا، جو ہماری اجتماعی کوتاہی کا ثبوت ہے۔ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان کی پوری زندگی ہندو مسلم اتحاد، قومی ہم آہنگی اور مشترکہ تہذیب کی عملی تفسیر تھی۔ وہ اس سوچ کے علمبردار تھے جسے آج "بھارت جوڑو" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے، مگر انہوں نے اس نظریے کو دہائیوں پہلے اپنی زندگی، کردار اور خدمات کے ذریعے عملی شکل دی تھی۔ریاستی حکومت اگر ان کی یاد میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ان کے نام سے کوئی مستقل تحقیقی مرکز یا ادارہ قائم کرے، یا اقلیتی علاقوں میں کنڑ زبان کی تعلیم و ترویج کے لیے "ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان کنڑ مطالعاتی مرکز" قائم کرے، تو یہ نہ صرف ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا بلکہ ان کے مشن کو بھی نئی زندگی ملے گی۔ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان صرف ایک ادیب، ڈرامہ نگار یا لوک ادب کے محقق نہیں تھے، بلکہ وہ انسانیت، بھائی چارے، کنڑ زبان اور ہندوستانی یکجہتی کے ایسے سفیر تھے جن کی خدمات نسلوں تک یاد رکھی جانی چاہئیں۔ ان کی بیسویں برسی اس عہد کی تجدید کا موقع ہے کہ ہم اس عظیم فرزندِ کرناٹک کے علمی، ادبی اور قومی ورثے کو محفوظ کریں اور نئی نسل تک پہنچائیں۔ڈاکٹر ایس۔ کے۔ کریم خان بلاشبہ ایک ایسے "وشوا مانوا" تھے جنہیں ابھی وہ مقام ملنا باقی ہے جس کے وہ حقیقی طور پر حق دار ہیں۔
Post a Comment