CJ Vibhu Bakhru Stresses Human Side of Law قانون سماجی خدمت کا ذریعہ: چیف جسٹس

قانونی تعلیم کو سماجی ذمہ داری اور انصاف سے جوڑنے کی ضرورت: چیف جسٹس وبھو بکھرو

کلبرگی میں علاقائی ورکشاپ؛ طلبہ کو آئینی شعور، دیانت داری اور انسانی اقدار اپنانے کی تلقین

کلبرگی، 6 جولائی (جی چندراکانتھ)

کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس وبھو بکھرو نے کہا ہے کہ قانونی تعلیم صرف نصابی کتابوں، امتحانات یا عدالتی کارروائیوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک گہرا انسانی پہلو بھی ہے۔قانون کا شعبہ ہمدردی، صبر، اخلاقیات، دیانت داری اور سماجی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے، جس کا ادراک ہر قانون کے طالب علم کے لیے ضروری ہے۔وہ کلبرگی میں کرناٹک ریاستی لیگل سروسز اتھارٹی، کرناٹک اسٹیٹ لاء یونیورسٹی اور کلبرگی زون کے لاء کالجوں کے اشتراک سے منعقدہ پانچویں علاقائی ورکشاپ سے افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔

 ورکشاپ کا عنوان "کلاس روم سے عدالت تک: سماجی انصاف کے فروغ میں قانون کے طلبہ کا کردار" تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے بیشتر طلبہ وکیل، جج، ماہرِ قانون یا سول سروس کے افسر بننے کا خواب رکھتے ہیں، جو یقیناً قابلِ ستائش خواہشات ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قانون کی تعلیم معاشرے کے تئیں ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی پیشہ ہمیشہ سے ایک باوقار مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ آئینی اقدار کے تحفظ اور عوام کو انصاف کی فراہمی سے براہِ راست وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف کی ضمانت دیتا ہے، تاہم حقیقی معنوں میں جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوگی جب انصاف معاشرے کے ہر طبقے، خصوصاً پسماندہ اور محروم طبقات تک پہنچے گا۔جسٹس وبھو بکھرو نے کہا کہ قانونی تعلیم کا اصل مقصد محض نظریاتی معلومات حاصل کرنا نہیں، بلکہ قانون کو سماجی تبدیلی کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ انہوں نے کرناٹک ریاستی قانونی خدمات اتھارٹی کی جانب سے قانونی بیداری، مصالحتی اقدامات اور طلبہ پر مبنی قانونی امدادی پروگراموں کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مضبوط کرتے ہیں۔

اس موقع پر مہمانِ خصوصی کرناٹک ہائی کورٹ کی جج جسٹس انو شیورامن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانونی تعلیم کا مقصد صرف کامیاب پیشہ ور افراد تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے باشعور شہری پیدا کرنا ہے جو اپنے علم کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کے لیے کی جانے والی چھوٹی سی کوشش بھی دیرپا سماجی تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انڈیا جسٹس رپورٹ کے مطابق کرناٹک ریاستی قانونی خدمات اتھارٹی نے 2022 اور 2025 میں کمزور طبقات تک قانونی خدمات پہنچانے کے معاملے میں ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جو ریاست کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے علم کو مسلسل تازہ رکھیں اور اپنے پورے پیشہ ورانہ سفر میں سماجی شعور کو برقرار رکھیں۔ورکشاپ کی صدارت ہائی کورٹ قانونی خدمات کمیٹی کے صدر جسٹس آر دیوداس نے کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس وقت حقیقی معنوں میں فروغ پاتا ہے جب قانونی شعور معاشرے میں عام ہو، شہری اپنے قانونی علم کو عوامی مفاد کے لیے استعمال کریں اور آئینی اقدار روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں۔تقریب میں کرناٹک ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل ایم چندرشیکھر ریڈی، کرناٹک ریاستی قانونی خدمات اتھارٹی کے رکن سکریٹری ایچ ششی دھر شیٹی، مختلف اضلاع کے جج صاحبان، وکلاء، لاء کالجوں کے اساتذہ اور تقریباً 1,100 قانون کے طلبہ نے شرکت کی۔ ضلع و سیشن جج جی ایل لکشمی نارائن نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کے رکن سکریٹری سری نواس نوالے نے شکریہ ادا کیا۔ تقریب کی نظامت اتھارٹی کے تعلقاتِ عامہ کے افسر بالا سبرامنیم نے انجام دی۔

0/Post a Comment/Comments