چکمگلورو میں مولانا محمد زین العابدین رشادیؒ کے سانحۂ ارتحال پر تعزیتی اجلاس
علماء نے مرحوم کی دینی، تعلیمی اور اصلاحی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا
چکمگلورو، 13 جولائی (فیروز نشیمن)
جمعیت علمائے ہند، چکمگلورو کی جانب سے دارالعلوم شاہ ولی اللہ، بنگلورو کے مہتمم، ممتاز دینی رہنما اور جمعیت علمائے ہند کرناٹک کے ریاستی نائب صدر حضرت مولانا محمد زین العابدین رشادی مظاہریؒ کے سانحۂ ارتحال پر مدینہ مسجد، چکمگلورو میں نمازِ مغرب کے بعد ایک تعزیتی و دعائیہ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت قاضیِ شریعت چکمگلورو حضرت مفتی اسد اللہ قاسمی نے فرمائی۔اجلاس میں دارالعلوم شاہ ولی اللہ کے فارغین، علماء، حفاظ اور ائمہ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر مولوی شعیب اللہ، مولوی محمد اسحاق، مفتی اسد اللہ قاسمی، مفتی زین العابدین، مفتی توقیر احمد قاسمی، الحاج عبدالروف مظاہری اور نصر اللہ شریف سمیت متعدد علماء نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے مرحوم کی علمی، دینی اور سماجی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔مقررین نے کہا کہ مولانا محمد زین العابدین رشادیؒ نہایت بااخلاق، خوش گفتار، نرم خو اور مخلص شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، طلبہ کی تعلیم و تربیت، ملت کی رہنمائی اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ ان کے ہزاروں شاگرد آج ملک کے مختلف حصوں میں دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کے علمی فیض کا روشن ثبوت ہیں۔علماء نے کہا کہ مرحوم نے خصوصاً حجاجِ کرام کی رہنمائی اور تربیت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ بنگلورو حج کیمپ میں روانگی کے وقت ان کے یہ محبت بھرے الفاظ، "جو دیکھو تم خدا کا گھر، ہمیں بھی یاد کر لینا" ہمیشہ اہلِ ایمان کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔اجلاس کے اختتام پر مرحوم کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی، مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔ دعا حضرت مفتی توقیر احمد قاسمی، صدر جمعیت علمائے ہند چکمگلورو نے کرائی، جس کے ساتھ تعزیتی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
Post a Comment