کاویری واٹر اتھارٹی کا فیصلہ یک طرفہ اور غیر سائنسی: ایچ ڈی کماراسوامی
حکومت فوری اپیل کرے، خشک سالی کے باوجود تمل ناڈو کو پانی چھوڑنے کے حکم پر سخت اعتراض
ہاسن، 31 جولائی (حقیقت ٹائمز)
مرکزی وزیر ایچ ڈی کماراسوامی نے کاویری واٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تمل ناڈو کو پانی چھوڑنے کے حکم پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے "یک طرفہ، غیر سائنسی اور مفروضوں پر مبنی فیصلہ" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں دفاتر میں بیٹھ کر احکامات جاری کرنے کے بجائے اتھارٹی کے ارکان کو پہلے کرناٹک اور تمل ناڈو کے آبی ذخائر کا زمینی جائزہ لینا چاہیے تھا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتھارٹی نے آئندہ 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی تمل ناڈو کو چھوڑنے کا حکم دیا ہے، جبکہ یہ بھی مفروضہ قائم کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں کرناٹک کے آبی ذخائر میں 12 ٹی ایم سی پانی کی آمد ہوگی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر متوقع بارش نہ ہوئی اور پانی ذخائر تک نہ پہنچا تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ۔کماراسوامی نے کہا کہ ریاست اس وقت شدید خشک سالی کا سامنا کر رہی ہے، کاویری طاس کے ذخائر میں صرف 54 تا 55 ٹی ایم سی پانی موجود ہے، جبکہ صرف بنگلورو کی آئندہ چھ ماہ کی پینے کے پانی کی ضرورت کے لیے تقریباً 30 ٹی ایم سی پانی درکار ہے۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی پانی محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایسے حالات میں پڑوسی ریاست کو پانی فراہم کرنے کا حکم کرناٹک کے مفادات کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کو حکم جاری کرنے سے پہلے دونوں ریاستوں کے آبی ذخائر، پینے کے پانی کی ضرورت، زرعی صورتحال اور کسانوں کے مسائل کا مکمل جائزہ لینا چاہیے تھا، لیکن ایسا کیے بغیر صرف کرناٹک کے خلاف فیصلہ صادر کیا گیا، جو وفاقی نظام کے تقاضوں کے منافی ہے۔مرکزی وزیر نے ریاستی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے اتھارٹی کے فیصلے کو خاموشی سے قبول کرنے کے بجائے مضبوط قانونی دلائل کے ساتھ چیلنج کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے میں فوری طور پر بالاتر فورم سے رجوع کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی انصاف طلب کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ کاویری تنازع پر اتوار کو طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں جنتا دل (سیکولر) ضرور شریک ہوگی، کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے کرناٹک کے مفاد کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حساس معاملات پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ریاست کے مفادات کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔کرناٹک بند کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کماراسوامی نے کہا کہ احتجاج کرنا کسانوں اور کنڑ تنظیموں کا حق ہے اور ان کی جماعت ان کے جذبات کے ساتھ ہے، تاہم صرف بند سے تمل ناڈو کو کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس سے زیادہ مشکلات خود کرناٹک کے عوام کو پیش آئیں گی۔انہوں نے میکے داٹو منصوبے کا بھی ذکر کرتے ہوئے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرثانی شدہ تفصیلی منصوبہ رپورٹ تیار کرکے مرکزی آبی کمیشن کو پیش کی جائے۔ ان کے مطابق موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت کرناٹک کو اپنے حصے کا پانی ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کے خاطر خواہ حقوق حاصل ہیں، جن سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔کماراسوامی نے ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خشک سالی جیسے سنگین مسئلے میں کسانوں کی مدد اور پانی کے مؤثر انتظام پر توجہ دینے کے بجائے حکومت دیگر سیاسی معاملات میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات بھلا کر صرف کرناٹک کے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔
Post a Comment