Tumakuru: Black Day Protest by Anganwadi and Mid-Day Meal Workers ٹمکورو میں ہزاروں ملازمین کی ریلی اور دھرنا

آنگن واڑی اور اکشرا داسوہا ملازمین کی ہڑتال 

ٹمکورو میں ہزاروں ملازمین کا جلوس، حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ

ٹمکورو 10 جولائی (حقیقت ٹائمز)

آنگن واڑی (آئی سی ڈی ایس) اور اکشرا داسوہا (دوپہر کے غذائی منصوبہ) سے وابستہ ملازمین نے جمعہ کے روز اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے منائے گئے "یومِ سیاہ" کے تحت ہڑتال کرتے ہوئے ریاست بھر میں احتجاج کیا۔ اس موقع پر ملازمین نے کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کم از کم اجرت، سماجی تحفظ اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی کا مطالبہ کیا۔شہر میں ہزاروں ملازمین نے ٹاؤن ہال سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک احتجاجی جلوس نکالا، جہاں دھرنا دے کر حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور مطالبات پر مشتمل یادداشت حکام کے حوالے کی گئی۔احتجاجی مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ قومی تعلیمی پالیسی اور فنڈ میں مسلسل کمی کے باعث آنگن واڑی نظام شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے تین سے چھ برس کے بچوں کو آنگن واڑی مراکز سے ہٹا کر اسکولوں میں ایل کے جی اور یو کے جی شروع کرنے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

آنگن واڑی ملازمین نے ریاستی حکومت سے انتخابی وعدے کے مطابق کارکنان کے لیے 15 ہزار روپے اور معاون کارکنان کے لیے 10 ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی پینتالیسویں بھارتی محنت کانفرنس کی سفارشات کے مطابق کم از کم اجرت، ماہانہ پنشن، ترقی کے بہتر مواقع، تمام مراکز میں ایل کے جی اور یو کے جی کی توسیع، بچوں کے لیے یونیفارم، کتابیں، کھلونے اور بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پوشن ٹریکر اور ای۔کے وائی سی جیسے ڈیجیٹل نظام کے باعث ملازمین پر غیر ضروری دباؤ بڑھ گیا ہے، اس لیے تمام مراکز کو ٹیبلیٹ، انٹرنیٹ سہولت اور دیگر ضروری وسائل فراہم کیے جائیں، جبکہ بوتھ سطحی افسر سمیت غیر متعلقہ سرکاری فرائض سے بھی انہیں مستثنیٰ رکھا جائے۔اکشرا داسوہا ملازمین نے کہا کہ گزشتہ پچیس برس سے جاری اس منصوبے میں بڑھتی مہنگائی کے باوجود 2008 کے بعد اجرت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں خواتین ملازمین معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے انتخابی وعدے کے مطابق ماہانہ تنخواہ میں 7 ہزار روپے اضافے، روزانہ چھ گھنٹے ڈیوٹی، صحت بیمہ، ماہانہ پنشن، ملازمت کا تحفظ، جدید باورچی خانے، محفوظ کام کا ماحول اور دورانِ ملازمت وفات کی صورت میں 25 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی اجتماع سے آنگن واڑی ملازمین یونین کی ضلعی صدر جی کملہ، جنرل سکریٹری گلزار بانو، خازن انسویا، اکشرا داسوہا ملازمین یونین کی ناگرتنما، گریجا اور سی آئی ٹی یو کے ضلعی صدر سید مجیب نے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر ملازمین کے مسائل سے مسلسل چشم پوشی کا الزام عائد کیا۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر شبھا کلیان نے احتجاجیوں سے ملاقات کر کے ان کی یادداشت وصول کی۔ اس موقع پر ملازمین نے بوتھ سطحی افسر کے فرائض انجام دینے میں پیش آنے والی مشکلات، مناسب موبائل فون، انٹرنیٹ سہولت اور اضافی الاؤنس نہ ملنے کی شکایت کرتے ہوئے ضلعی سطح پر فوری اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔خواتین و اطفال بہبود محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر سدارامیا اور محکمۂ تعلیم کے افسر سدھاکر نے بھی ملازمین کی یادداشت وصول کی۔ احتجاج میں آنگن واڑی اور اکشرا داسوہا ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

0/Post a Comment/Comments