Airport Decision Awaited; ₹5 Crore Allocated Per District for Drinking Water: G. Parameshwara ہوائی اڈے پر جلد فیصلہ، ہر ضلع کے لیے 5 کروڑ روپے: ڈاکٹر جی پرمیشور

نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جلد فیصلہ، ٹمکورو اب بھی مضبوط امیدوار

قحط سے نمٹنے کی تیاری تیز، ہر ضلع کے لیے 5 کروڑ روپے مختص: ڈاکٹر جی پرمیشور

بنگلورو، 18 جولائی (حقیقت ٹائمز)

 نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جی پرمیشور نے کہا ہے کہ مجوزہ بین الاقوامی ہوائی اڈہ ٹمکورو کے قریب قائم ہو، وہ ابتدا ہی سے اس کے حامی رہے ہیں۔ تکنیکی ماہرین کی کمیٹی نے دو مقامات کی سفارش کی ہے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کی تکنیکی جانچ کے بعد ریاستی حکومت حتمی فیصلہ کرے گی۔ اگر ہوائی اڈہ ٹمکورو میں قائم ہوتا ہے تو انہیں بے حد خوشی ہوگی۔  ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی کمیٹی نے نلمنگلا کے قریب کنیگل روڈ اور بڈدی علاقے کا معائنہ کرکے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کر دی ہیں، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔بڈدی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نکالی جا رہی پدیاترا کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ ہر جماعت کو اپنا پروگرام چلانے کا حق حاصل ہے، جبکہ ریاستی حکومت ترقی کے نقطۂ نظر سے ٹاؤن شپ منصوبہ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تجویز پہلے ایچ ڈی کماراسوامی نے پیش کی تھی، تاہم بعد میں اسے ترک کر دیا گیا تھا، اب وزیر اعلیٰ نے اسے منظم انداز میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اراضی کے حصول کے معاملے میں کسی بھی کسان یا زمین کے مالک پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا بلکہ گفت و شنید کے ذریعے انہیں رضامند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے ریاست کی ترقی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ دیہی ترقی اور محکمہ مال کے باہمی تعاون سے ای۔سوتھو دستاویزات کی اجرائی کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے اور کئی برسوں سے زیر التوا معاملات کو جلد مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست میں قحط کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیر اعلیٰ کی قیادت میں بیلگاوی اور کلبرگی محکمہ مالگزاری کے حلقوں کے علاوہ ٹمکورو اور چتردرگہ اضلاع کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ مزید اقدامات کے لیے ضلع ڈپٹی کمشنروں اور ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد ہوگا، جس میں ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔

ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ پینے کے پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ہر ضلع کو 5 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں اور اس وقت مجموعی طور پر 329 کروڑ روپے دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنروں کے متعلقہ کھاتوں میں تقریباً 600 کروڑ روپے بھی موجود ہیں، جنہیں ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اپوزیشن کے اس الزام پر کہ حکومت صرف خطوط لکھنے تک محدود ہے، نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قحط کے اعلان کے لیے مرکزی حکومت نے بعض ضابطے مقرر کیے ہیں۔ انہی ضابطوں میں نرمی اور کرناٹک کو جلد مالی امداد فراہم کرنے کے لیے مرکز کو مکتوب روانہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ ملک کے کئی حصے قحط کی لپیٹ میں ہیں، اسی لیے قحط کو قومی آفت قرار دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خاموش تماشائی نہیں بلکہ پوری ذمہ داری کے ساتھ عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہے، جبکہ بے بنیاد الزامات عائد کرنا اپوزیشن کا معمول بن چکا ہے۔

0/Post a Comment/Comments