AHINDA Demands Apology from Kumaraswamy مسلمانوں سے متعلق بیان پر قومی اہندا تنظیم کا احتجاج

کمار سوامی مسلمانوں سے متعلق بیان واپس لیں اور معافی مانگیں: اہندا

بنگلہ دیشی مسلمانوں کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کے الزام کی سخت مذمت، ذمہ دارانہ بیانات دینے کا مطالبہ

ہبلی، 8 جولائی (حقیقت ٹائمز)

 قومی اہندا تنظیم کے ریاستی تشہیری کمیٹی کے صدر بابا جان مدھول اور تنظیم کے ریاستی صدر متّنّا شیوالی نے مرکزی وزیر ایچ ڈی کمار سوامی کی جانب سے بنگلہ دیشی مسلمانوں کو ووٹر فہرست میں شامل کیے جانے سے متعلق دیے گئے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ایک مشترکہ پریس بیان میں تنظیمی قائدین نے کہا کہ ایک مرکزی وزیر اور آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے اس نوعیت کے الزامات عائد کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس قسم کے دعوے کیے جاتے ہیں تو انہیں حقائق اور شواہد کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے، محض عوام میں شکوک و شبہات پیدا کرنا مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسلمان ماضی میں جنتا دل (سیکولر) اور دیوے گوڑا خاندان پر اعتماد کا اظہار کرتے رہے ہیں، لیکن حالیہ بیان سے مسلم برادری کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ کمار سوامی اپنا بیان واپس لیں اور ریاست کے مسلمانوں سے معذرت کریں۔تنظیمی قائدین نے کہا کہ خصوصی انتخابی نظرِ ثانی کا عمل ملک کی کئی ریاستوں میں جاری رہا ہے اور ووٹر فہرستوں میں نظرِ ثانی انتخابی کمیشن کے ضابطوں کے مطابق انجام دی جاتی ہے۔ اگر کسی بھی معاملے میں بے ضابطگی کا شبہ ہو تو اس کے لیے انتخابی کمیشن سے رجوع کیا جانا چاہیے، نہ کہ بے بنیاد الزامات کے ذریعے عوام میں خوف یا غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر بار بار بنگلہ دیشی دراندازوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تو مرکزی حکومت اور انتخابی کمیشن کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں مستند اعداد و شمار اور حقائق عوام کے سامنے پیش کریں تاکہ غیر ضروری قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔اس موقع پر بابا جان مدھول، متّنّا شیوالی، شمشیر گنجے والے، مولا صاحب نداف، یوسف بلاری، رمیش بھوسلے، کیشو مورتی، گنگادھر پیرور، ایراپا کٹگی، کریم لککنڈی، پیر صاحب نداف، وجئے کمار اور دیگر تنظیمی نمائندوں نے بھی اس مطالبے کی تائید کرتے ہوئے ذمہ دارانہ سیاسی بیانات دینے پر زور دیا۔

0/Post a Comment/Comments