شوہر سے زیادہ آمدنی رکھنے والی بیوی نان و نفقہ کی حق دار نہیں: ہائی کورٹ
خود کفیل بیوی کو محض ازدواجی تعلق کی بنیاد پر نان و نفقہ نہیں دیا جا سکتا
بنگلورو، 30 جون (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر بیوی کی آمدنی شوہر سے زیادہ ہو اور وہ مالی طور پر خود کفیل ہو تو شوہر کو نان و نفقہ (Maintenance) ادا کرنے کا پابند نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔یہ فیصلہ جسٹس ڈاکٹر چِلّکور سوملتا پر مشتمل ہائی کورٹ کی بنچ نے ایک طلاق کے مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا، جہاں شوہر نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں بیوی کی زیادہ آمدنی کے باوجود اسے نان و نفقہ ادا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر بیوی شوہر سے زیادہ تنخواہ حاصل کرتی ہو، مالی طور پر مستحکم ہو اور اس پر بچوں یا دیگر افراد کی کفالت جیسی اضافی ذمہ داریاں بھی نہ ہوں، تو ایسی صورت میں صرف اس بنیاد پر کہ شوہر کو بیوی کی کفالت کرنی چاہیے، نان و نفقہ کا حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ ماتحت عدالتوں کو ایسے معاملات میں ہر کیس کے حقائق اور دونوں فریقوں کی مالی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے اور صرف روایتی تصور کی بنیاد پر شوہر کو نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم نہیں دینا چاہیے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق متعلقہ جوڑے کی شادی 2024 میں ہوئی تھی، تاہم چند ماہ بعد دونوں علیحدہ ہو گئے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران معلوم ہوا کہ شوہر کی ماہانہ تنخواہ 60,646 روپے تھی، جبکہ بیوی کی ماہانہ آمدنی ایک لاکھ روپے تھی۔ مزید یہ کہ بیوی پر بچوں یا کسی دوسرے فرد کی کفالت کی ذمہ داری بھی نہیں تھی۔ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایسی صورتحال میں شوہر کو نان و نفقہ ادا کرنے کا پابند قرار نہیں دیا جا سکتا اور ماتحت عدالت کا سابقہ حکم منسوخ کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ"اگر بیوی مالی طور پر مضبوط ہو، اس کی آمدنی شوہر سے زیادہ ہو اور اس پر بچوں یا دیگر افراد کی کفالت کی ذمہ داری نہ ہو، تو صرف اس تصور کی بنیاد پر کہ شوہر کو بیوی کا خرچ برداشت کرنا چاہیے، نان و نفقہ کا حکم جاری نہیں کیا جانا چاہیے۔"یہ فیصلہ ازدواجی تنازعات میں نان و نفقہ سے متعلق مقدمات کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Post a Comment