خلیل مامونؔ کی ادبی خدمات اردو دنیا کا قیمتی سرمایہ ہیں: ڈاکٹر راہی فدائی
ہندوستانی اُردو منچ کے زیرِ اہتمام ’’بہ یادِ خلیل مامونؔ‘‘ شاندار طرحی مشاعرہ منعقد
بنگلورو، 22 جون (حقیقت ٹائمز)
معروف ادیب، شاعر اور نقاد ڈاکٹر راہی فدائی نے کہا ہے کہ مرحوم خلیل مامونؔ نے اردو ادب کی دنیا میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں جنہیں اردو دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وہ ادب کے فروغ، ادبی سرگرمیوں کے استحکام اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر مثبت اور تعمیری اقدام میں پیش پیش رہتے تھے۔وہ ہندوستانی اُردو منچ کے زیرِ اہتمام منعقدہ طرحی مشاعرہ ’’بہ یادِ خلیل مامونؔ – نذرانۂ شعر و نغمہ‘‘ کی صدارتی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ڈاکٹر راہی فدائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کرناٹک نے موجودہ صدی میں اردو ادب کو تین ایسی عظیم شخصیات عطا کی ہیں جنہیں اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ ان میں خلیل مامونؔ، محمود ایازؔ اور حمید الماسؔ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو ادب میں جب بھی شعر و سخن، علم و ادب اور تہذیبی خدمات کا تذکرہ ہوگا، ان شخصیات کے نام احترام کے ساتھ لیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خلیل مامونؔ نہ صرف ایک ممتاز شاعر اور ادیب تھے بلکہ وعدہ وفائی، اصول پسندی اور ادبی وقار کے معاملے میں بھی نہایت سنجیدہ اور باکردار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی ادب اور انسان دوستی کے اعلیٰ اقدار کی آئینہ دار تھی۔

پروگرام کا آغاز ہندوستانی اُردو منچ کے سکریٹری جناب این۔ ڈی۔ ملا کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ انہوں نے خلیل مامونؔ کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہد کی ناانصافیوں، معاشرتی بے حسی اور انسانی مسائل سے کبھی لاتعلق نہیں رہے۔ ان کی یہی فکری بے چینی ان کی شاعری میں گہرے کرب، حساسیت اور عصری شعور کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔مشاعرے کی نظامت ڈاکٹر ارشد جمال صارم نے انجام دی۔ انہوں نے اپنے ابتدائی کلمات میں طرحی مشاعروں کی ادبی روایت، اس کی تاریخی اہمیت اور اردو شاعری میں اس صنف کے ارتقاء پر روشنی ڈالی۔اس مشاعرے کا مصرعِ طرح تھا:
’’حادثے ہوتے رہے، ہم نے گلہ کچھ نہ کیا‘‘

اس موقع پر بنگلورو اور بیرونِ شہر سے تعلق رکھنے والے شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام کے ذریعے خلیل مامونؔ کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مشاعرے میں ڈاکٹر راہی فدائی، ماہر منصور، غفران امجد، فریدہ رحمت اللہ، ڈاکٹر ارشد جمال صارم، افتخار ارسل، انوار قادری ترپاتوری، سردار وہاب دانش، شفیق الزماں اور ڈاکٹر عمیس احمر سمیت دیگر شعرائے کرام نے شرکت کی اور اپنے اشعار سے سامعین کو محظوظ کیا۔پروگرام کے کوآرڈینیٹر جناب جمیل احمد ملنسار نے مدراس سے موصول ہونے والے معروف شاعر شاہد مدراسی کا کلام بھی سامعین کی نذر کیا، جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا اور خوب داد دی۔تقریب کے اختتام پر کرناٹک اُردو اکادمی کے سابق چیئرمین اور ہندوستانی اُردو منچ کے سرپرست جناب عزیز اللہ بیگ نے تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، ادباء اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خلیل مامونؔ کی ادبی خدمات اور فکری وراثت نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔اس ادبی نشست میں شہر کے ادب نواز حضرات کی کثیر تعداد شریک رہی اور شرکاء نے خلیل مامونؔ کی علمی، ادبی اور تہذیبی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
بہت خوب.... اہل بنگلور ستائش کے مستحق ہیں کہ ایک مرحوم شاعر کو انھوں نے خراج پیش کیا
ReplyDeletePost a Comment