Tobacco-Free Society Needs Public Awareness: Judge Srinivas Navle تمباکو سے پاک معاشرے کے لیے عوامی بیداری ناگزیر: سرینواس نولے

تمباکو نوشی نئی نسل کے لیے سنگین خطرہ، بیداری ہی مؤثر ہتھیار: سرینواس نولے

عالمی یومِ انسدادِ تمباکو پر نوجوانوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل

کلبرگی، 17 جون (جی چندراکانتھ) 

ضلع قانونی خدمات اتھارٹی کے رکن سکریٹری جج سرینواس نولے نے کہا ہے کہ صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے تمباکو اور نکوٹین کے مضر اثرات کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نہ صرف خود تمباکو سے دور رہیں بلکہ معاشرے میں اس کے نقصانات کے بارے میں آگاہی بھی پھیلائیں۔وہ منگل کے روز کلبرگی میں ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت، ضلع قانونی خدمات اتھارٹی، محکمہ صحت و خاندانی بہبود، ضلع تمباکو کنٹرول سیل اور قومی پروگرام برائے منہ کی صحت کے اشتراک سے منعقدہ عالمی یومِ انسدادِ تمباکو کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔سرینواس نولے نے کہا کہ تمباکو اور نکوٹین کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام، عوامی بیداری اور علاج کے لیے حکومت ہر سال 1700 کروڑ روپے سے زائد خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں 13 سے 14 سال کی عمر کے بچوں، طالبات اور خواتین میں سگریٹ اور تمباکو کے استعمال کا رجحان بڑھنا تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ تمباکو مصنوعات کے پیکٹوں پر صحت سے متعلق انتباہی تصاویر اور پیغامات واضح طور پر درج ہونے کے باوجود لوگ ان کو نظر انداز کر رہے ہیں، جس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔تقریب کے آغاز میں ضلع تمباکو کنٹرول سیل کی پروگرام کنسلٹنٹ سجاتا پاٹل نے استقبالیہ اور تعارفی کلمات پیش کیے۔ بعد ازاں قومی پروگرام برائے منہ کی صحت (NOHP) کے ضلعی پروگرام آفیسر ڈاکٹر راجو رام پورے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر طلبہ تمباکو نوشی اور دیگر مضر عادات سے دور رہنے کا عزم کرلیں تو ان کا مستقبل روشن اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ایس ایس ٹیگنور پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج کی پرنسپل جیوتی ٹیگنور نے تقریب کی صدارت کی۔ اس موقع پر ضلع تمباکو کنٹرول سیل کی جانب سے تیار کردہ خصوصی پوسٹرس بھی جاری کیے گئے۔تقریب میں سماجی کارکن آرتی دھن شری، ضلع اسپتال کے ماہرِ نفسیات و کونسلر منجوناتھ کمبلی مٹھ، ڈی ای او روی پجاری، لکچرر انورادھا ایس سمیت متعدد ماہرین اور اساتذہ نے بطور وسائل افراد شرکت کی۔پروگرام کا آغاز لکچرر رینوکا ہیرے مٹھ کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا جبکہ اختتام پر رمیش بڈیگیر نے اظہارِ تشکر پیش کیا۔ اس موقع پر کالج کے بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات موجود تھے اور انہوں نے تمباکو سے پاک معاشرے کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا۔

0/Post a Comment/Comments