Mango Farmers in Srinivaspur Announce Highway Blockade on June 15 Over Price Crash آم کاشتکار سڑکوں پر آنے کو تیار، حکومت سے فوری امداد کا مطالبہ

آم کی قیمتوں میں شدید گراوٹ، سرینواس پور کے کاشتکاروں کا 15 جون کو شاہراہ بند احتجاج کا اعلان

امدادی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ، کسانوں نے حکومت پر بے توجہی کا الزام عائد کیا

سرینواس پور، 12 جون (شبیر احمد)

 ضلع کولار کے تعلقہ سرینواس پور میں آم کی قیمتوں میں غیر معمولی گراوٹ کے باعث کاشتکار شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔ اس سلسلے میں کسان سنگھ کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آم کے لیے کم از کم 10 روپے فی کلو امدادی قیمت مقرر کی جائے۔ بصورتِ دیگر 15 جون کو روزرن ہلی گیٹ پر ریاستی شاہراہ بند کرکے احتجاج کیا جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کسان سنگھ کے ریاستی نائب صدر کے نارائن گوڑا نے کہا کہ آم کو ’’پھلوں کا بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے، مگر اس کی کاشت کرنے والے کسان آج بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمی تغیرات، بے وقت بارش، تیز ہواؤں، بیماریوں اور جنگلی جانوروں کے نقصانات کے باوجود کسان سخت محنت سے فصل تیار کرتے ہیں، لیکن منڈی میں مناسب قیمت نہ ملنے سے ان کی معاشی حالت ابتر ہو رہی ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کولار ریاست میں آم کی پیداوار کا اہم مرکز ہونے کے باوجود کاشتکار مسلسل مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق ایک ماہ قبل بادامی قسم کے آم کی قیمت 120 سے 150 روپے فی کلو تھی، جو اب کم ہوکر 10 سے 15 روپے فی کلو رہ گئی ہے۔ اس صورتحال میں کسانوں کو پھل توڑنے والے مزدوروں کی اجرت بھی اپنی جیب سے ادا کرنی پڑ رہی ہے، جبکہ کئی باغات میں آم درختوں کے نیچے گر کر ضائع ہو رہے ہیں۔کسان سنگھ کے تعلقہ صدر تیرن ہلی انجناپا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے آم کاشتکار مسلسل مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومتوں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے آم کے لیے امدادی قیمت مقرر کرنے اور کاشتکاروں کے تحفظ کے اقدامات کرنے پر زور دیا۔

اجلاس میں مقررین نے کہا کہ ماضی میں ضلع کولار سے مختلف ممالک کو آم برآمد کیا جاتا تھا، لیکن بین الاقوامی حالات اور برآمدات میں رکاوٹوں کے باعث اس شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔ علاوہ ازیں آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں سے بڑی مقدار میں آم کی آمد نے مقامی منڈیوں میں قیمتوں کو مزید متاثر کیا ہے۔کسان رہنماؤں نے ضلع میں کم از کم 20 آم پراسیسنگ یونٹس قائم کرنے، آم ترقیاتی بورڈ کے لیے مناسب بجٹ مختص کرنے، منڈیوں میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے اور کمیشن ایجنٹوں کی من مانی پر روک لگانے کا مطالبہ بھی کیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 15 جون کو روزرن ہلی گیٹ پر آم کے ساتھ ریاستی شاہراہ بند کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔اجلاس میں کسان سنگھ کے ریاستی رہنما بنگاوادی ناگراج گوڑا، ضلع صدر ایکمبلی منجوناتھ، راجندر ریڈی، الاواٹی شیو، شفیع اللہ، تیمنا، فاروق پاشا، راجیش، گریش، سہادیونا، گنگادھر اور دیگر کسان رہنماؤں نے شرکت کی۔

0/Post a Comment/Comments