راجیہ سبھا میں منصور علی خان کی انٹری، آئین اور عوامی خدمت کو ترجیح دینے کا عہد
شفاف قانون سازی، عوامی شمولیت اور کرناٹک کے مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے کا اعلان
بنگلورو، 12 جون (شبیر احمد)
کرناٹک سے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے والے کانگریس رہنما منصور علی خان نے کہا ہے کہ عوامی زندگی میں یہ ان کا پہلا آئینی منصب ہے اور وہ اس عظیم ذمہ داری کو مکمل دیانت داری، سنجیدگی اور آئینِ ہند کے اصولوں کے مطابق نبھانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد جاری اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے کہا کہ کامیابی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ودھان سودھا کے سامنے آئینِ ہند کی ایک نقل ہاتھ میں لے کر یہ عہد کیا کہ ان کی تمام سیاسی، پارلیمانی اور عوامی سرگرمیوں کی بنیاد آئین اور جمہوری اقدار ہوں گی۔منصور علی خان نے کہا کہ وہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ ہیں اور اس دوران مختلف تنظیمی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بہت سے لوگ انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتے، لیکن ان کی شناخت پارٹی کے ایک متحرک کارکن اور تنظیمی ذمہ دار کے طور پر رہی ہے۔

انہوں نے اپنے والد، سابق مرکزی وزیر اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کے رحمان خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سیاست کا آغاز کسی خصوصی حیثیت کے ساتھ نہیں بلکہ ایک عام کانگریسی کارکن کے طور پر کیا تھا۔ ان کے والد ہمیشہ یہ تلقین کرتے تھے کہ عوامی زندگی میں عزت اور مقام خاندانی پس منظر سے نہیں بلکہ عوامی خدمت اور مسلسل جدوجہد سے حاصل ہوتا ہے۔منصور علی خان نے کہا کہ بلاک سطح کے کارکن سے لے کر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری کے عہدے تک کا سفر پارٹی کی قیادت کے اعتماد اور کارکنان کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ کانگریس قیادت نے انہیں تلنگانہ اور کیرالہ میں اہم تنظیمی ذمہ داریاں سونپی تھیں، جہاں پارٹی کی انتخابی کامیابیوں میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔انہوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنگلورو سینٹرل حلقے میں انتخابی مہم کے دوران ووٹر فہرستوں میں بعض بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آئے تھے، جنہیں پارٹی قیادت کی ہدایت پر سنجیدگی سے اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق اس مسئلے کو بعد میں قومی سطح پر بھی موضوعِ بحث بنایا گیا۔نومنتخب رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کا سیاسی اور انتظامی انداز حقائق، اعداد و شمار اور عملی نتائج پر مبنی ہے۔ وہ مسائل کی نشاندہی، ان کے اسباب کا تجزیہ اور مؤثر حل تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجیہ سبھا میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران بھی وہ اسی طرزِ فکر کو اختیار کریں گے۔منصور علی خان نے کہا کہ بنگلورو ملک کا ایک اہم ٹیکنالوجی اور اختراعاتی مرکز ہے اور یہاں کی تحقیق و جدت پر مبنی ثقافت نے ان کی سوچ کو متاثر کیا ہے۔ اسی جذبے کے تحت وہ اپنی پارلیمانی سرگرمیوں، پالیسی تجاویز اور عوامی معاملات سے متعلق معلومات کو زیادہ سے زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے پیش کریں گے۔انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی ایک آن لائن پورٹل اور دیگر رابطہ ذرائع متعارف کرائے جائیں گے تاکہ عام شہری اپنی تجاویز، شکایات اور پالیسی سے متعلق آرا براہِ راست ان تک پہنچا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ بھی بتایا جائے گا کہ راجیہ سبھا کے رکن کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہیں اور کن امور میں وہ مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک ان کی اولین ترجیح رہے گا کیونکہ وہ ریاست کی نمائندگی کر رہے ہیں، تاہم راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے وہ پورے ملک کے وسیع تر مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھیں گے اور ایسے مسائل اٹھائیں گے جو ریاست اور ملک دونوں کے لیے اہم ہوں۔منصور علی خان نے کانگریس کی اعلیٰ قیادت بشمول سونیا گاندھی، ملیکارجن کھرگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، کے سی وینوگوپال، رندیپ سنگھ سرجے والا، سدارامیا، ڈی کے شیوکمار اور بی کے ہری پرساد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی اور اعتماد ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔انہوں نے کانگریس کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ہر اس کارکن کی کامیابی ہے جس نے مشکل حالات میں بھی پارٹی کے نظریات اور جمہوری اقدار کا پرچم بلند رکھا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ’’کرناٹک کے لیے، بھارت کے لیے اور آئینِ ہند کے لیے میری جدوجہد جاری رہے گی۔ راجیہ سبھا میں نمائندگی کا موقع ایک اعزاز بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی، اور اب حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کے نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔‘‘
Post a Comment