پھلوں کا بادشاہ بے قیمت، کسان بے بس
آم کی قیمت 60 سے گر کر 10 روپے، سرینواس پور میں کسانوں کا شدید احتجاج
سرینواس پور، 15 جون (شبیر احمد)
آم کی قیمتوں میں غیر معمولی گراوٹ کے باعث پریشان حال آم کاشتکاروں کے تحفظ کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کسان سنگھ کے کارکنوں نے روزاراہلی گیٹ کے قریب ریاستی شاہراہ پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آم کے پھل سڑک پر رکھ کر علامتی دھرنا دیا اور تحصیلدار جی۔ این۔ سدھیندر کو ایک یادداشت پیش کی۔احتجاج کے دوران کسان سنگھ کے ریاستی رہنما بنگاوادی ناگراج گوڑا نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آم کے لیے فی کلو کم از کم 10 روپے امدادی قیمت (سپورٹ پرائس) مقرر کرے، ہر سال کے بجٹ میں آم کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے 10 ہزار کروڑ روپے مختص کیے جائیں اور ہر تعلقہ میں آم کی پروسیسنگ یونٹ قائم کی جائے۔انہوں نے الزام لگایا کہ ہر سال بنگلورو میں محکمہ باغبانی کی جانب سے منعقد ہونے والے آم میلے کے ذمہ دار افسران، قیمتوں میں گراوٹ سے تباہ حال کسانوں کی صورتحال حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں کا بادشاہ کہلانے والا آم پیدا کرنے والے کسان آج شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ناگراج گوڑا نے کہا کہ کولار ضلع کے آم کو ملک اور بیرونِ ملک خاص شہرت حاصل ہے، لیکن گزشتہ پانچ برسوں سے آم کاشتکار مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوامی نمائندوں، ضلعی انچارج وزیر اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔انہوں نے بتایا کہ کولار ضلع ریاست میں آم کی سب سے زیادہ پیداوار والا ضلع ہے، جہاں کسان لاکھوں روپے خرچ کرکے باغات کی دیکھ بھال کرتے ہیں، بیماریوں اور موسمی تغیرات کا مقابلہ کرتے ہیں، لیکن فصل تیار ہونے کے بعد انہیں مناسب قیمت نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ قبل بادامی قسم کے آم کی قیمت 50 سے 60 روپے فی کلو تھی، جو اب گھٹ کر محض 8 سے 10 روپے رہ گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں کسان اپنی لاگت بھی وصول نہیں کر پا رہے ہیں۔

کسان سنگھ کے تعلقہ صدر تینناہلی آنجنیاپا نے کہا کہ مزدوری، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث آم کی فصل توڑنے کے لیے فی مزدور تقریباً ایک ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، جبکہ باغ سے منڈی تک نقل و حمل پر تین ہزار روپے تک خرچ آتا ہے۔ اس کے باوجود کسانوں کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا اور کئی کسان آم کو باغات میں ہی سڑنے کے لیے چھوڑنے پر مجبور ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے آم کاشتکار مسلسل بحران کا شکار ہیں، مگر حکومت نے ان کے تحفظ کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ، ایران اور دیگر ممالک کو ہونے والی برآمدات متاثر ہونے کے باعث تاجروں اور کسانوں دونوں کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔کسان سنگھ نے اپنے مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومت آم کاشتکاروں کے مسائل کو سنجیدگی سے لے، ہر تعلقہ میں پروسیسنگ یونٹ قائم کرے، بجٹ میں خصوصی فنڈ مختص کرے اور فوری طور پر فی کلو آم کے لیے کم از کم 10 روپے امدادی قیمت کا اعلان کرے تاکہ کسان موجودہ بحران سے باہر نکل سکیں۔یادداشت وصول کرنے کے بعد تحصیلدار جی۔ این۔ سدھیندر نے کہا کہ ضلع کمشنر پہلے ہی آم کاشتکاروں کے مسائل پر رپورٹ طلب کر چکے ہیں۔ متعلقہ محکموں سے موصولہ معلومات ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی گئی ہیں اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔احتجاج میں کسان سنگھ کے ریاستی نائب صدر کے۔ نارائن گوڑا، ایکمبلی منجوناتھ، راجندر ریڈی، واناراشی ویرابھدر، شفیع اللہ، راجو، گریش، تمنا، فاروق پاشا، ناگراج، زبیر پاشا، وینکٹیش نائک، ایچ۔ سرینواس، ناگیش، بھرت، آنند، ویرپا، منی راجو، سوم شیکھر، وینکٹیشپا، گنیش، گوپال کرشنا، ہریش اور دیگر کارکنان و کسان بڑی تعداد میں شریک تھے۔
Post a Comment