Nirmala Sitharaman Warns of Desertification, Launches Plantation Drive in Vijayanagara نرملا سیتا رامن کی وجئے نگر میں شجرکاری، ایک لاکھ پودے لگانے کا ہدف

قدرت ناراض ہوئی تو زمین ریگستان بن جائے گی: نرملا سیتا رامن

وجئے نگر میں ایک لاکھ پھلدار پودے لگانے کے ہدف کے ساتھ شجرکاری مہم کا آغاز

ہوسپیٹ/کُڈلیگی، 5 جون (جی چندراکانتھ)

عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور نرملا سیتا رامن نے کہا ہے کہ اگر انسان نے قدرت کے تحفظ کو اپنی ترجیح نہ بنایا تو آنے والے دنوں میں پوری زمین بنجر اور ریگستان میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شجرکاری محض ایک دن کی رسم نہیں بلکہ اسے ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔وہ ضلع وجئے نگر کے تعلقہ کُڈلیگی کے گاؤں چکّاجوگی ہلّی میں ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت اور محکمہ جنگلات کے اشتراک سے منعقدہ "ماں کے نام ایک پیڑ" پروگرام سے خطاب کر رہی تھیں، جہاں انہوں نے پودا لگا کر خصوصی سبز مہم کا افتتاح کیا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ ماحول، درختوں، جانوروں اور پرندوں کا تحفظ دراصل انسانی بقا کی ضمانت ہے۔ صاف ہوا، صاف پانی اور زرخیز زمین آئندہ نسلوں کا بنیادی حق ہیں، جن کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرت سے بے رخی اور ماحولیاتی توازن کی خرابی کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور دیگر سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ ملک کے ہر شہری کو روزانہ کم از کم ایک پودا لگانے اور اس کی نگہداشت کا عہد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ملٹی کراپنگ نظام کے ذریعے نوجوان نسل کو دوبارہ زراعت کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے گجرات کے کچھ علاقے میں قائم کیے گئے میاواکی ماڈل کے گھنے جنگل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرز پر چکّاجوگی ہلّی میں بھی مقامی آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والے مختلف اقسام کے پودے سائنسی بنیادوں پر لگائے جا رہے ہیں، جو مختصر مدت میں ایک سرسبز جنگل کی شکل اختیار کر لیں گے۔وزیر موصوفہ نے ہدایت دی کہ جس بچے کے نام پر پودا لگایا جائے، اس کا نام پتھر کی تختی پر کندہ کرکے متعلقہ پودے کے قریب نصب کیا جائے تاکہ آئندہ نسلوں میں ماحولیات کے تحفظ کا شعور پروان چڑھے۔رکنِ اسمبلی ڈاکٹر این ٹی سری نواس نے بتایا کہ چکّاجوگی ہلّی میں پہلے مرحلے کے تحت 300 ایکڑ اراضی پر میاواکی طرز کے گھنے جنگل کی تعمیر شروع کی گئی ہے، جسے مستقبل میں ایک ہزار ایکڑ تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تعلقہ میں زرعی سائنس مرکز، رہائشی تعلیمی اداروں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ماحولیات کے ماہر آر کے نائر نے بتایا کہ "بھارت وَن" منصوبے کے تحت تعلقہ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ پھلدار پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 40 ایکڑ زمین پر 15 ہزار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ رواں سال کے اختتام تک 50 ہزار اور آئندہ سال مزید 50 ہزار پودے لگائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ صرف شجرکاری تک محدود نہیں بلکہ جاپانی ٹیکنالوجی پر مبنی ملٹی کراپنگ سسٹم کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ منصوبے پر تقریباً 3 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، جس میں باڑ بندی، زمین کی تیاری اور پانچ سال تک دیکھ بھال کے اخراجات شامل ہیں۔آر کے نائر نے بتایا کہ کسانوں سے اس منصوبے کے لیے کوئی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ دو سے تین برس کے اندر پھلدار درختوں سے پیداوار حاصل ہونا شروع ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والا سو فیصد منافع براہِ راست کسانوں کو ملے گا۔ مستقبل میں یہاں فروٹ پلپ اور جوس فیکٹریوں کے قیام کے ساتھ برآمدات کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔تقریب میں تقریباً ایک ہزار اسکولی طلبہ نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شجرکاری میں حصہ لیا اور ماحولیات کے تحفظ کا عہد کیا۔اس موقع پر وزارتِ خزانہ کے سکریٹری سنجے لوہیا، وزیر کی خصوصی سکریٹری انیرُدھ شروَن، اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی چیف جنرل منیجر جولی سمیتا سنہا، ضلع کمشنر کویتا ایس منّیکیری، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس جاہنوی، ضلع پنچایت کے سی ای او نونگجائے محمد علی اکرم شاہ، محکمہ جنگلات کی ڈپٹی کنزرویٹر انوپما اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔

0/Post a Comment/Comments