ممبئی میں محرم الحرام کی روایات عروج پر، مجالسِ عزا اور دینی اجتماعات کا سلسلہ جاری
امام حسینؓ کی قربانی کے پیغام کے ساتھ شہر میں اتحاد، عقیدت اور گنگا جمنی تہذیب کی جھلک
ممبئی، 25 جون (خصوصی رپورٹ: جاوید جمال الدین)
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا اور حرمت و تقدس والا مہینہ ہے، جو امتِ مسلمہ کو قربانی، صبر، استقامت اور حق و صداقت کے عظیم پیغام کی یاد دلاتا ہے۔ واقعۂ کربلا کی نسبت سے یہ مہینہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جانثار رفقا کی بے مثال قربانی انسانیت کو ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے، حق کا ساتھ دینے اور انسانی وقار کے تحفظ کا درس دیتی ہے۔ممبئی میں محرم الحرام کی روایات صرف اہلِ تشیع تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ شہر کی مذہبی، سماجی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہیں۔ یہاں ایک جانب شیعہ برادری کی جانب سے مجالسِ عزا، ماتمی جلوس، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے، تو دوسری جانب اہلِ سنت والجماعت کے علماء بھی عشرۂ محرم کے دوران مساجد، مدارس اور دینی مراکز میں خصوصی خطابات اور اصلاحی بیانات کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔محرم کے ابتدائی ایام میں اسلامی تاریخ، سیرتِ نبوی ﷺ، اخلاقی تربیت، اصلاحِ معاشرہ اور دینی تعلیمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے، جبکہ سات محرم کے بعد واقعاتِ کربلا، حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی، اہلِ بیتِ اطہارؓ کی استقامت اور شہدائے کربلا کے پیغام کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔ اس طرح پورے شہر میں دینی بیداری، فکری اصلاح اور روحانی وابستگی کا ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ممبئی میں محرم کے اجتماعات میں ملک کے ممتاز شیعہ علماء اور ذاکرین شرکت کرتے رہے ہیں۔ مولانا عباس رضوی، مولانا ظہیر عباس رضوی، مولانا کلب صادقؒ، مولانا کلب جواد اور دیگر معروف شخصیات نے یہاں کی مجالس کو علمی اور فکری اعتبار سے مضبوط بنایا، جبکہ آج نئی نسل کے علماء اور ذاکرین اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔اسی طرح اہلِ سنت کے ممتاز علماء میں مولانا یونس پالن پوری، مولانا عبدالقادر کھتری، سابق رکنِ پارلیمان مولانا عبیداللہ خان اعظمی، مولانا ضیاء الدین بخاری، مولانا عبد القدوس کشمیری، مولانا منصور علی خان، مولانا فیض احمد فیض اور مولانا شاہد احمد کشنگنجی سمیت متعدد شخصیات کے خطابات نے محرم کی دینی روایت کو استحکام بخشا ہے۔
آج بھی ممبئی کے مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ پوری شان و شوکت کے ساتھ جاری ہے۔ بریلوی مکتبِ فکر کے مولانا معین اشرف، مولانا سعید نوری اور مولانا خلیل الرحمن نوری کے علاوہ دیوبندی علماء بھی عشرۂ محرم میں خصوصی بیانات کرتے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں خصوصاً پٹھان واڑی، پیرولین، ممبرا اور دیگر مقامات پر حضرت مولانا مفتی حامد ظفر علی قاسمی، مولانا یونس، مولانا مستقیم قاسمی، مولانا اظہری اور دیگر علماء کے خطابات میں بڑی تعداد میں عوام شرکت کرتے ہیں۔گزشتہ دو تین دہائیوں میں محرم الحرام اکثر موسمِ برسات میں آنے اور رات دس بجے کے بعد لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر قانونی پابندیوں کے باعث اجتماعات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔ اب گلیوں اور سڑکوں کے بجائے مساجد، مدارس اور دینی مراکز محرم کے وعظ و خطابات کے اہم مراکز بن گئے ہیں، تاہم مجالسِ عزا، ماتمی اجتماعات اور دیگر مذہبی تقریبات بدستور عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہیں۔
دو صدیوں پر محیط تاریخی روایت
تاریخی اعتبار سے ممبئی میں محرم کی روایت تقریباً دو صدیوں پر محیط ہے۔ مؤرخین کے مطابق انیسویں صدی کے اوائل میں جب بمبئی ایک اہم تجارتی اور بندرگاہی شہر کے طور پر ابھر رہا تھا، اس وقت محرم یہاں کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہوتا تھا۔ اس دور میں تعزیوں اور جلوسوں میں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور پارسی برادری کے افراد بھی شریک ہوتے تھے اور حضرت امام حسینؓ کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے تھے۔1893 کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد محرم کی تقریبات کی نوعیت میں تبدیلی آئی اور برطانوی دور میں عوامی اجتماعات پر عائد بعض پابندیوں کے باعث مذہبی سرگرمیاں محدود دائرے میں منتقل ہو گئیں۔ بعد ازاں اتر پردیش خصوصاً لکھنؤ اور ایران سے تعلق رکھنے والے شیعہ خاندانوں کی بڑی تعداد ممبئی میں آباد ہوئی، جس کے د میں عزاداری کی روایات مزید مستحکم ہوئیں۔
ڈونگری محرم کا اہم مرکز
جنوبی ممبئی کا تاریخی ڈونگری علاقہ آج بھی محرم کی سرگرمیوں کا مرکزی محور سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع امام بارگاہیں، زینبیہ ہال اور دیگر مذہبی مراکز میں روزانہ بڑی تعداد میں عزادار شریک ہو رہے ہیں۔ اگرچہ باندرہ، بائیکلہ، ممبرا، میرا روڈ، ورسووا اور دیگر علاقوں میں بھی مجالس اور جلوسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم عاشورہ کے موقع پر ڈونگری اور بھنڈی بازار میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔یکم محرم سے دسویں محرم تک منعقد ہونے والی مجالس میں علمائے کرام اور ذاکرین واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ، حضرت عباسؓ، حضرت زینبؓ اور دیگر شہدائے کربلا کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، جبکہ نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کے ذریعے عزادار اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔شہر بھر میں سبیلوں کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ کربلا میں اہلِ بیتؓ کو پانی سے محروم رکھے جانے کی یاد میں مختلف مقامات پر پانی، شربت، دودھ اور دیگر مشروبات بلا تفریق مذہب و ملت تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ڈونگری، بھنڈی بازار، محمد علی روڈ، بائیکلہ، باندرہ، میرا روڈ اور ممبرا سمیت متعدد علاقوں میں قائم سبیلیں خدمتِ خلق، ایثار اور انسانی ہمدردی کی روشن مثال پیش کر رہی ہیں۔محرم کے دوران بھنڈی بازار، مجگاؤں اور محمد علی روڈ کے علاقوں میں بھی غیر معمولی گہماگہمی دیکھی جا رہی ہے، جہاں بوہرہ، اثناعشری اور خوجہ شیعہ برادری کے افراد بڑی تعداد میں مذہبی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں واقع روحانی مراکز اور مزارات پر بھی عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ دسویں محرم، یومِ عاشورہ کے موقع پر شہر کے مختلف حصوں سے ماتمی جلوس برآمد ہوں گے۔ عزادار سینہ زنی اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔ پولیس اور شہری انتظامیہ نے bلوسوں کے پرامن انعقاد اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ماہرین کے مطابق ممبئی کے محرم پر ایرانی اور لکھنوی تہذیب کے اثرات نمایاں ہیں۔ آج بھی متعدد مجالس میں لکھنوی انداز کی مرثیہ خوانی اور ایرانی طرز کی عزاداری دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ ملک کے مختلف حصوں سے معروف علماء اور ذاکرین محرم کے اجتماعات سے خطاب کے لیے ممبئی تشریف لاتے ہیں۔سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ محرم کی تقریبات ممبئی کی گنگا جمنی تہذیب، بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور انسان دوستی کی بہترین علامت ہیں۔ خدمتِ خلق، ایثار اور باہمی احترام کے جذبات اس موقع پر نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو واقعۂ کربلا کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کرتے ہیں۔محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ممبئی کی فضا ایک بار پھر سوگ، عقیدت، روحانیت اور اخوت کے رنگ میں رنگ گئی ہے، جہاں عزادار حضرت امام حسینؓ کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہوئے حق، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کے عزم کی تجدید کر رہے ہیں۔
Post a Comment