ممبئی میں مانسون کی بھرپور دستک، موسلادھار بارش سے شہر تر بتر
شدید گرمی سے راحت، نشیبی علاقوں میں پانی جمع؛ آبی ذخائر میں اضافے کی امید
ممبئی، 24 جون (خصوصی رپورٹ- جاوید جمال الدین)
طویل انتظار، شدید گرمی، حبس اور پانی کی قلت کے خدشات کے بعد جنوب مغربی مانسون نے ممبئی میں پوری شدت کے ساتھ دستک دے دی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ہونے والی غیرمعمولی بارش نے جہاں شہریوں کو شدید گرمی سے راحت پہنچائی، وہیں کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے، ٹریفک کی سست روی اور بعض مقامات پر شہری ڈھانچے کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق بدھ کی صبح آٹھ بجے ختم ہونے والے چوبیس گھنٹوں کے دوران کولابا آبزرویٹری میں 248 ملی میٹر اور سانتا کروز آبزرویٹری میں 225 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو موجودہ مانسون سیزن کی شدید ترین بارشوں میں شمار کی جا رہی ہے۔برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے اعداد و شمار کے مطابق شہر کے کئی علاقوں میں بارش کی شدت اس سے بھی زیادہ رہی۔ مالونی میں 340 ملی میٹر اور پریل میں 334 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جبکہ رام مندر، کولابا، سانتا کروز، سائن، وکھرولی، ودیا وہار، چیمبور، بائیکلہ، باندرہ اور جوہو سمیت متعدد علاقوں میں موسلادھار بارش ریکارڈ کی گئی۔
تاخیر سے پہنچا مانسون، پھر اچانک شدت
اس سال مانسون ممبئی میں اپنی معمول کی تاریخ سے تقریباً 13 دن تاخیر سے پہنچا۔ جون کے ابتدائی دنوں میں کم بارش کے باعث شہر شدید گرمی، نمی اور پانی کی قلت کے خدشات سے دوچار تھا۔ ماہرین موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں سازگار موسمی نظام کی تشکیل اور مانسونی ہواؤں کی مضبوطی کے نتیجے میں گزشتہ چند روز کے دوران بارشوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ممبئی میں عام طور پر مانسون جون کے دوسرے ہفتے سے شروع ہو کر ستمبر کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ شہر میں سالانہ اوسط بارش 2200 سے 2500 ملی میٹر کے درمیان ریکارڈ کی جاتی ہے اور شہر کی معیشت، آبی ذخائر اور روزمرہ زندگی کا بڑا انحصار اسی موسمی نظام پر ہے۔
سات جھیلوں کے ذخائر میں اضافے کی امید
ممبئی کو پینے کا پانی فراہم کرنے والی سات اہم جھیلیں — تولسی، وہار، تانسا، موڈک ساگر، اپر ویتارنا، بھاتسا اور مڈل ویتارنا — گزشتہ چند ہفتوں سے کم بارش کے باعث تشویشناک صورتحال کا سامنا کر رہی تھیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ممبئی اور اس کے کیچمنٹ علاقوں میں جاری بارشوں سے ان آبی ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر آئندہ دنوں میں بھی بارشوں کا یہی سلسلہ جاری رہا تو پانی کی ممکنہ قلت کے خدشات بڑی حد تک ختم ہو سکتے ہیں۔
بی ایم سی کا ہنگامی نظام مکمل طور پر فعال

شدید بارش کے پیش نظر بی ایم سی نے اپنی ہنگامی مشینری کو مکمل طور پر متحرک کر دیا ہے۔ سات ہزار سے زائد افسران، انجینئرز، ملازمین اور امدادی کارکن مختلف علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے۔ڈی واٹرنگ پمپ، نکاسیٔ آب مراکز، پمپنگ اسٹیشن اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے خصوصی نظام مسلسل فعال ہیں۔ نشیبی علاقوں سے پانی کے فوری نکاس کے باعث کئی مقامات پر معمولاتِ زندگی جلد بحال ہو گئے۔رات بھر ہونے والی شدید بارش کے باعث ممبئی اور نوی ممبئی کے متعدد علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جس سے صبح کے اوقات میں کئی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی رفتار سست پڑ گئی۔اندھیری سب وے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات میں شامل رہا جہاں پانی بھر جانے کے باعث کچھ وقت کے لیے آمد و رفت معطل کرنا پڑی۔ تاہم میونسپل حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے اندر صورتحال کو معمول پر لے آئے وکھرولی ویسٹ میں سن سٹی کمپلیکس کے قریب جوگیشوری-وکھرولی لنک روڈ پر ایک رہائشی عمارت سے متصل دیوار گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایک اور واقعے میں ایک بڑا درخت ایک کار پر آ گرا جس سے گاڑی کو نقصان پہنچا اور ڈرائیور زخمی ہو گیا۔ امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔
لوکل ٹرین خدمات تقریباً معمول کے مطابق
ممبئی کا مضافاتی ریلوے نیٹ ورک شدید بارش کے باوجود بڑی حد تک فعال رہا۔ ویسٹرن، سینٹرل اور ہاربر لائن پر ٹرین خدمات معمولی تاخیر کے ساتھ جاری رہیں، جس سے لاکھوں مسافروں کو راحت ملی اور شہر کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچ گئیں۔
ممبئی کے لیے ریڈ الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے ممبئی شہر، مضافات اور پالگھر کے لیے ریڈ الرٹ جبکہ تھانے کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، ساحلی علاقوں اور سمندر کے قریب جانے سے احتراز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق کولابا میں جون کے دوران اب تک 542 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے، جس میں سے تقریباً 52 فیصد بارش صرف گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ہوئی۔ اسی طرح سانتا کروز میں جون کے دوران 537 ملی میٹر بارش درج کی گئی، جس میں سے تقریباً 42 فیصد بارش ایک ہی دن میں ریکارڈ ہوئی۔ماہرین کے مطابق مختصر وقت میں اس قدر زیادہ بارش شہری نکاسیٔ آب کے نظام کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہوتی ہے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
بارش کے بعد فطرت کے دلکش مناظر
شدید بارشوں کے بعد جنوبی ممبئی کے بعض علاقوں میں مور اور دیگر خوبصورت پرندوں کی موجودگی بھی دیکھی گئی۔ شہریوں نے سوشل میڈیا پر ان مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں، جنہیں بارش کے موسم کی خوبصورتی اور ماحول میں مثبت تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین موسمیات اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں مختصر مدت کے دوران انتہائی شدید بارشوں کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ممبئی کو اپنے نکاسیٔ آب کے نظام، ساحلی تحفظ، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی انتظامی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔فی الحال مانسون کی یہ بھرپور آمد ممبئی کے لیے خوش آئند سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف گرمی اور حبس میں کمی آئی ہے بلکہ آبی ذخائر میں اضافے اور پانی کی قلت کے خدشات میں کمی کی امید بھی پیدا ہوئی ہے۔ تاہم آئندہ دنوں میں بارش کی شدت برقرار رہنے کی صورت میں شہری انتظامیہ اور عوام دونوں کو مزید احتیاط اور تیاری کی ضرورت ہوگی۔
Post a Comment