Mewa Centre Honours Urdu Achievers in Mysuru میسور میں فروغِ اردو کی خوبصورت تقریب

میسور میں اردو کے فروغ کی روشن مثال، مرکز میوا میں باوقار تقریب

طلبہ، معلمات اور معاونین کی تہنیت، اردو زبان کی اہمیت اجاگر

میسور، 22 جون (حقیقت ٹائمز)

اِدارۂ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد اور محمد ابراہیم خان فاؤنڈیشن (مرکز میوا) کے زیرِ اہتمام مرکز میوا، شانتی نگر، میسور میں اردو دانی، زبان دانی، انشاء اور اسلامی معلوماتِ عامہ کے امتحانات میں کامیاب طلبہ و طالبات، معلمات اور معاونین کے اعزاز میں ایک شاندار اور باوقار جلسۂ تقسیمِ اسناد و انعامات منعقد ہوا، جس میں اردو زبان و ادب کے فروغ، نئی نسل کی تعلیمی و اخلاقی تربیت اور مادری زبان سے وابستگی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔جلسے کی صدارت مرکز میوا کے بزرگ سرپرست میر سرفراز الرحمٰن نے کی۔ تقریب کا آغاز مرکز میوا کی طالبہ رومانہ بانو کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ رقیہ سیٹھ نے بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں نعتِ پاک کا نذرانہ پیش کیا۔ مرکز میوا کے روحِ رواں پروفیسر نعمت اللہ خان نے مہمانانِ کرام، اساتذۂ کرام اور شرکائے محفل کا خیرمقدم کرتے ہوئے ادارے کی تعلیمی و ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈاکٹر عتیق احمد نے مہمانانِ خصوصی اور دیگر معزز شخصیات کا تعارف پیش کیا۔اس موقع پر مرکز میوا کی طالبات مدیحہ اور تاسمین نے غزلیں پیش کرکے حاضرین سے بھرپور داد حاصل کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الفلاح کلچرل ایجوکیشنل سنٹر، کے آر پیٹ، ضلع منڈیا کے بانی آفتاب ضمیر احمد قادری، ایم اے نے اِدارۂ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد اور محمد ابراہیم خان فاؤنڈیشن (مرکز میوا) کی ادبی، لسانی اور تہذیبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ میسور صدیوں سے اردو زبان و ادب کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور مرکز میوا اسی علمی و ادبی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میوا کی سرگرمیاں اب صرف میسور تک محدود نہیں رہیں بلکہ ضلع منڈیا، چنپٹن اور دیگر علاقوں تک پھیل چکی ہیں، جو اردو زبان کے فروغ کے لیے نہایت خوش آئند بات ہے۔اس موقع پر افنان اللہ خان (الامین ہدا اسکول و فراہ اسکول، چنپٹن) نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر پروفیسر نعمت اللہ خان نے ان سے سوال کیا تھا کہ کیا وہ اردو پڑھ اور لکھ سکتے ہیں؟ منفی جواب ملنے پر انہوں نے مادری زبان اردو سے ناواقفیت اور دینی معلومات کی کمی کی جانب توجہ دلائی، جس نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ اردو زبان سیکھنے اور اس مشن سے وابستہ ہونے پر آمادہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سماج میں تعلیمی بیداری اور اردو زبان کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف چنپٹن کے مختلف تعلیمی اداروں سے تین سو پچاس سے زائد طلبہ و طالبات نے اردو کے مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے، جو اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے نہایت حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔بعد ازاں پروفیسر مظہر الحق نے اردو زبان نہ سیکھنے کے نقصانات بیان کرتے ہوئے اردو کی شیرینی، وسعت اور افادیت پر روشنی ڈالی، جبکہ شیخ عبدالمناف، معتمد مرکز میوا، نے عصرِ حاضر میں اردو زبان و ادب کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ادارے کے منتظمین، معلمین اور معاونین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس موقع پر اردو دانی، زبان دانی، انشاء اور اسلامی معلوماتِ عامہ کے امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات، معلمات اور معاونین میں اسناد، انعامات، گل پوشی، شال پوشی اور یادگاری مومنٹو تقسیم کیے گئے۔اسی طرح اردو زبان و ادب اور تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے پر سرمدی خانم (گورنمنٹ اردو اسکول، ستیہ نگر، میسور)، ثریا بانو (غوثیہ اردو سنٹر، غوثیہ نگر، میسور)، عظمیٰ سلطانہ، رضوانہ شوکت، برکت النساء، افنان اللہ خان، شیخ عبدالمناف اور آفتاب ضمیر احمد قادری کی خصوصی تہنیت و تکریم کی گئی۔ یہ اعزازات مرکز میوا کے بزرگ سرپرست میر سرفراز الرحمٰن اور دیگر معتمدین و معزز مہمانوں کے دستِ مبارک سے پیش کیے گئے۔اپنے صدارتی خطاب میں میر سرفراز الرحمٰن نے مرکز میوا کی تعلیمی، ادبی اور سماجی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ نئی نسل کی ہمہ جہت تربیت اور فروغِ اردو کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے اور مستقبل میں بھی اپنی خدمات کے دائرے کو مزید وسیع کرے گا۔تقریب کی نظامت عظمیٰ سلطانہ، ایم اے نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جبکہ اختتام پر پروفیسر نعمت اللہ خان نے تمام مہمانانِ کرام، مقررین، والدین، معلمات اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جلسے کے اختتام کا اعلان کیا۔بعد ازاں تمام مہمانوں اور شرکائے محفل کی مشروبات، نمکین اور تازہ پھلوں سے تواضع کی گئی۔ (آفتاب ضمیر احمد قادری، ایم اے)

0/Post a Comment/Comments