ہندو دھرم آر ایس ایس سے کہیں وسیع تر ہے
ہری پرساد نے بھاگوت کے بیان کو کروڑوں ہندوؤں کی توہین قرار دیا
بنگلورو، 16 جون (حقیقت ٹائمز)
کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی جانب سے آر ایس ایس کو ہندو دھرم کے مترادف قرار دینا انتہائی قابلِ مذمت ہے اور یہ کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بی۔ کے۔ ہری پرساد نے کہا کہ ہندو دھرم ہزاروں سال کی تاریخ، تہذیب، فلسفے اور تنوع کا حامل ایک عظیم تمدنی ورثہ ہے، جسے کسی ایک مخصوص تنظیم کی سطح تک محدود کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو دھرم کو آر ایس ایس کے ساتھ جوڑ کر پیش کرنا اس کی وسعت اور ہمہ گیری کو کم کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہندو دھرم کسی ایک تنظیم کی ملکیت نہیں ہے۔ یہ آر ایس ایس سے کہیں زیادہ وسیع، ہمہ گیر اور سب کو اپنے اندر سمو لینے والی تہذیبی روایت ہے۔"بی۔ کے۔ ہری پرساد نے سوال اٹھایا کہ متنازعہ پس منظر رکھنے والی ایک تنظیم کو پورے ہندو سماج کا نمائندہ قرار دینا کس حد تک درست ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات ملک کے سماجی تانے بانے اور مذہبی ہم آہنگی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قائدین اور خود کو "ہندو دھرم کے محافظ" کہنے والوں سے بھی سوال کیا کہ آیا وہ موہن بھاگوت کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہندو دھرم اور آر ایس ایس ایک ہی ہیں؟۔کے پی سی سی صدر نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے قائدین کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ عوام کے سامنے حقیقت آ سکے۔واضح رہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے حالیہ بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس پر اپنے اپنے ردِعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
Post a Comment