Farmers Protest Against Wild Elephant Attacks in Chennagiri ہاتھیوں کے حملوں پر کسان برہم، احتجاج میں شدت کی وارننگ

جنگلی ہاتھیوں کے حملوں کے خلاف چنگری میں کسانوں کا زبردست احتجاج

تباہ شدہ سپاری کے درخت سڑک پر لا کر مظاہرہ، مستقل حل نہ ملا تو سخت تحریک کی وارننگ

چنگری، 13 جون (الطاف رضوی)

جنگلی ہاتھیوں اور جنگلی بھینسوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت سے فصلوں کو ہونے والے بھاری نقصان کے خلاف ریاستی کسان ایسوسی ایشن کی قیادت میں چنگری میں سینکڑوں کسانوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں چکاسندھی، چک ملالی، اوبرانی، نیلا ہنکالو، کھگگی اور دیگر دیہات کے کسانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین نے جنگلی ہاتھیوں کے حملوں سے تباہ ہونے والے سپاری کے درخت کینٹر گاڑیوں میں لا کر عوام اور حکام کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔کسانوں نے چنگری آئی بی سرکل سے محکمہ جنگلات کے دفتر تک مارچ کیا اور محکمہ کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران کسانوں نے محکمہ جنگلات کے دفتر کے سامنے سڑک پر دھرنا دے کر ٹریفک بھی کچھ وقت کے لیے معطل کر دی، جس کے باعث آمدورفت متاثر ہوئی۔ بعد ازاں پولیس نے مداخلت کرکے ٹریفک کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔اس موقع پر کسانوں نے چنگری ڈویژن کے اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ سریدھر تھیگینا منی اور زونل فاریسٹ آفیسر راگھویندر کو ایک یادداشت پیش کی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کسان رہنما ننجنڈاپا نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جنگلی ہاتھیوں اور جنگلی بھینسوں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سپاری، کیلا، آم، ناریل اور جیک فروٹ سمیت مختلف فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان رات کے وقت اپنے باغات اور کھیتوں میں جانے سے خوفزدہ ہیں، لیکن متعدد شکایات کے باوجود محکمہ جنگلات کوئی مؤثر اور مستقل حل تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے۔بی جے پی کے نوجوان اور کسان رہنما راجیش نے کہا کہ جنگلات سے متصل دیہات کے عوام مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگلی ہاتھی اب رہائشی علاقوں اور گھروں کے اطراف تک پہنچ رہے ہیں، جس سے خواتین، بچوں اور بزرگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اوبرانی اور اطراف کے علاقوں میں غیر قانونی کان کنی اور مٹی کی غیر مجاز نقل و حمل کی سرگرمیاں جاری ہیں، جس سے جنگلی جانوروں کی قدرتی گزرگاہیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔کسان رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ہاتھیوں کے ریوڑ کی نشاندہی کرکے انہیں فوری طور پر محفوظ جنگلاتی علاقوں میں منتقل کیا جائے، متاثرہ کسانوں کو فصلوں کے نقصان کا مناسب معاوضہ ادا کیا جائے، دیہات میں رات کی گشت بڑھائی جائے اور جنگلی جانوروں کے مسئلے کا مستقل اور مؤثر حل نکالا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور محکمہ جنگلات نے فوری اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں احتجاجی تحریک کو مزید شدت دی جائے گی۔اس موقع پر محکمہ جنگلات کے افسران سریدھر تھیگینا منی اور راگھویندر نے کسانوں کو یقین دلایا کہ ان کے مطالبات اور مسائل کو اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور مناسب حکومتی کارروائی کے لیے تفصیلی رپورٹ روانہ کی جائے گی۔احتجاج میں تعلقہ کسان ایسوسی ایشن کے صدر ویربھدرپا، سکریٹری شیومورتی، نائب صدر ناگیندرپا سمیت جیابھووی، فاروق، ہدایت، انجنیا، سریش، سدرشن، کرن اور اطراف کے دیہات کے سینکڑوں کسانوں نے شرکت کی۔کسانوں نے واضح کیا کہ ان کی جان و مال اور فصلوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

0/Post a Comment/Comments