دیوناہلی میں ٹریفک نظام بدستور ناکام، شہریوں کا اظہارِ تشویش
ضلعی ہیڈکوارٹر میں سگنلز کا فقدان، حادثات اور جام کا خطرہ بڑھ گیا
بنگلورو، 16 جون (تمیم پاشاہ)
ریاست کرناٹک کے وزیر خوراک ڈاکٹر کے۔ ایچ۔ منی اپا کے آبائی اور حلقۂ انتخاب دیوناہلی میں ٹریفک کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع ہیڈکوارٹر ہونے کے باوجود دیوناہلی میں ٹریفک نظام کی بدحالی جوں کی توں برقرار ہے اور متعلقہ محکمے اس مسئلے کے مستقل حل میں ناکام نظر آتے ہیں۔دیوناہلی شہر کا مرکزی حصہ سدلگٹہ، چکبالاپور، وجئے پورہ اور اطراف کے کئی علاقوں کو بنگلورو سے جوڑنے والا اہم راستہ ہے، جس کے باعث یہاں روزانہ ہزاروں گاڑیوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی ٹریفک کے باوجود بنیادی سہولتوں کا فقدان شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے۔شہریوں کے مطابق دیوناہلی کے قدیم بس اسٹینڈ اور اطراف کے اہم چوراہوں پر ٹریفک سگنلز موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے دو پہیہ اور چار پہیہ گاڑیاں بے ترتیبی سے چلتی ہیں اور اکثر ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کی موجودگی بھی نہایت محدود ہے اور بیشتر اوقات اہلکار نظر نہیں آتے، جس کے نتیجے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عام ہوتی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر کے۔ ایچ۔ منیاپا پہلی مرتبہ دیوناہلی اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوکر ریاستی کابینہ میں وزیر خوراک کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں، تاہم مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع ہیڈکوارٹر میں ٹریفک کے بنیادی مسائل اب تک حل نہیں ہو سکے ہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دیوناہلی میں جدید ٹریفک سگنلز نصب کیے جائیں، اہم سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔عوامی نمائندوں اور سماجی کارکنوں نے بھی زور دیا ہے کہ دیوناہلی میونسپل کونسل، محکمہ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور وزیر خوراک ڈاکٹر کے۔ ایچ۔ منیاپا اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور شہریوں کو ٹریفک جام اور بے ہنگم ٹریفک سے نجات دلانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
Post a Comment