Water Crisis Sparks Political Row in Ilkal تکنیکی خرابیوں سے پانی کی سپلائی متاثر، جلد بہتری کا دعویٰ

الکل میں پانی کی قلت پر سیاست گرم، کانگریس کا سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کے الزامات پر پلٹ وار

 کروڑوں روپے کے نئے آبی منصوبے سے مسئلہ حل کرنے کا دعویٰ، عوام کو صبر سے کام لینے کی اپیل

الکل، 16 جون (سلیمان چوپدار)

الکل شہر میں گزشتہ ایک ماہ سے 24 گھنٹے پینے کے پانی کی سربراہی میں پیش آنے والی رکاوٹوں اور قلت کے معاملے پر سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ کانگریس کے مقامی قائدین اور سی ایم سی ارکان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کی جانب سے رکن اسمبلی وجے آنند کاشپنور پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ شہر میں پانی کی سربراہی متاثر ہونے کی بنیادی وجوہات تکنیکی نوعیت کی ہیں، جن میں پمپنگ مشینوں میں خرابی، بڑھتی ہوئی آبادی کے سبب پانی کے کنکشنوں میں اضافہ، پرانے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ اور بجلی کی بار بار کٹوتی شامل ہیں۔ ان مسائل کی وجہ سے پانی کی سپلائی میں وقتی خلل پیدا ہو رہا ہے، تاہم انتظامیہ اور عوامی نمائندے اس کے مستقل حل کے لیے سرگرم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رکن اسمبلی وجے آنند کاشپنور نے شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے 35 کروڑ روپے کے ایک نئے آبی منصوبے پر کام شروع کیا ہے، جس کے مکمل ہونے کے بعد پانی کی سربراہی کو مزید مستحکم اور بہتر بنایا جا سکے گا۔کانگریس رہنماؤں نے سابق رکن اسمبلی ڈی جی پاٹل کے حالیہ بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں خود ڈی جی پاٹل کے دور میں بھی سیاسی مخالفین اور کانگریس کارکنوں کے خلاف کئی مقدمات درج کیے گئے تھے، اس لیے آج وہ ایف آئی آر اور قانونی کارروائیوں پر اعتراض کرنے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔رہنماؤں نے کہا کہ وجے آنند کاشپنور حلقے میں مختلف ترقیاتی کاموں کو مؤثر انداز میں انجام دے رہے ہیں اور آئندہ بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو پانی کی قلت سے ہونے والی پریشانی کا انہیں مکمل احساس ہے اور تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔سی ایم سی دفتر کے سامنے احتجاج، دفتر کو تالا لگانے اور بعض افسران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا یا سرکاری ملازمین کی توہین کرنا مناسب نہیں۔ ایسے معاملات میں پولیس نے قانون کے مطابق کارروائی کی ہے۔پریس کانفرنس میں کانگریس کے مقامی قائدین نے اس امید کا اظہار کیا کہ شہر میں جاری تکنیکی مسائل جلد حل ہو جائیں گے اور 24 گھنٹے پینے کے پانی کی سربراہی کو پہلے کی طرح بحال کر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی الزام تراشیوں کے درمیان عام شہری ہی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

0/Post a Comment/Comments