شہری مزدوروں کے تمام مطالبات پر حکومت ہمدردانہ غور کرے گی: ڈاکٹر یتیندر سدارامیا
مستقل تقرری، براہِ راست ادائیگی اور صحت و تعلیمی سہولتوں کے مطالبات پر جلد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی
بنگلورو، 16 جون (حقیقت ٹائمز)
ریاستی وزیر برائے شہری ترقی ڈاکٹر یتیندر سدارامیا نے کہا ہے کہ شہری بلدیاتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے شہری مزدوروں (پَور کرمچارِیوں) کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کے لیے حکومت مثبت اور مؤثر اقدامات کرے گی۔منگل کے روز اپنے سرکاری دفتر میں کرناٹک اسٹیٹ میونسپل کارپوریشنز، سٹی میونسپل کونسلز اور ٹاؤن میونسپل کونسلز کے شہری مزدوروں کی فیڈریشن کے عہدیداران کے ساتھ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ شہری مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے فوری کارروائی کی جائے۔وزیر موصوف نے کہا کہ شہری مزدوروں کی براہِ راست ادائیگی (Direct Payment System) کے تحت تقرری، بقایا مزدوروں کی مستقل ملازمت، صفائی کے کام میں مصروف کچرا جمع کرنے والے کارکنوں، لوڈرز اور کچرا گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو بھی شہری مزدوروں کا درجہ دینے سمیت تمام مطالبات پر حکومت سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔اجلاس میں ریاستی صفائی کرمچاری کمیشن کے سابق چیئرمین نارائن نے حکومت کی جانب سے مقامی اداروں میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 29 ہزار شہری مزدوروں کو مستقل کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ باقی ماندہ 6,800 شہری مزدوروں کو بھی جلد از جلد مستقل کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں میں ٹھیکہ نظام کے تحت کام کرنے والے صفائی گاڑیوں کے ڈرائیوروں، لوڈرز اور صفائی کارکنوں کو ٹھیکہ نظام سے نکال کر براہِ راست ادائیگی کے نظام میں شامل کیا جائے، کیونکہ کرناٹک میونسپل کارپوریشن ایکٹ (KMC Act) کے مطابق یہ تمام کارکن شہری مزدوروں کے زمرے میں آتے ہیں۔

اجلاس میں شہری مزدوروں کے لیے سنجیونی ہیلتھ اسکیم نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا، تاکہ صفائی کے کام میں مصروف تمام مزدوروں، ڈرائیوروں اور لوڈرز کو نقد رقم کے بغیر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔فیڈریشن کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ براہِ راست ادائیگی کے نظام کے تحت خدمات انجام دیتے ہوئے انتقال کر جانے والے شہری مزدوروں کے اہلِ خانہ کو ہمدردی کی بنیاد پر ملازمت فراہم کی جائے، جبکہ ریٹائر ہونے والے مزدوروں کے لیے خصوصی مالی امداد کا انتظام بھی کیا جائے۔اس کے علاوہ شہری مزدوروں کے زیرِ کفالت طلبہ کی تعلیمی سہولت کے لیے اسکولوں اور کالجوں کی فیس بلدیاتی اداروں کے ذریعے ادا کرنے کا بھی مطالبہ پیش کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ریاست کی دس میونسپل کارپوریشنوں میں ٹھیکہ بنیادوں پر خدمات انجام دینے والے 670 زیرِ زمین نکاسی آب (UGD) معاون شہری مزدوروں میں سے 477 مزدوروں کو مستقل کرنے کا فیصلہ حکومت پہلے ہی کر چکی ہے، جبکہ باقی 193 مزدوروں کو بھی جلد مستقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ڈاکٹر یتیندر سدارامیا نے شہری مزدوروں کے نمائندوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے تمام مطالبات پر ہمدردانہ غور کرے گی اور ضروری اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔اجلاس میں محکمہ شہری ترقی کی سکریٹری بی بی کاویری، ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر رویندر اور شہری مزدور تنظیم کے متعدد نمائندے شریک تھے۔
Post a Comment